مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 33
مکتوبات احمد جلد سوم حضرت نواب علی محمد خان صاحب رضی اللہ تعالی عنہ آف جھجر کے نام تعارفی نوٹ حضرت نواب علی محمد خان صاحب آف جهجر ( جو فتنہ غدر کے بعد لودہا نہ آکر مقیم ہو چکے تھے ) جھجر کے حکمراں خاندان میں سے تھے۔۱۸۵۷ء کے غدر کے بعد جھجر کے خاندان پر بھی الزام آیا اور اس کا نتیجہ اس خاندان کا عزل تھا۔نواب علی محمد خان صاحب اود ہا نہ آکر آباد ہوئے اور انہوں نے اپنی رہائش کیلئے ایک عالیشان کوٹھی معہ باغ تعمیر کی اور اس کے ساتھ ہی ایک مسجد عبادت کے لئے اور ایک سرائے تعمیر کی تا کہ وہ آمدنی کا ذریعہ ہو۔راقم الحروف خاکسار عرفانی کو بفضلہ تعالیٰ نواب مرحوم سے سعادت ملاقات و ہم نشینی اس وقت سے حاصل ہوئی جب کہ و ہ ۱۸۸۹ء میں لودہانہ کے بورڈ سکول کا ایک طالب علم تھا اور روزانہ ظہر کی نماز ان کی مسجد میں پڑھا کرتا تھا اور نواب صاحب با قاعده شریک جماعت ہوتے تھے۔سرائے میں ایک مدرسہ عربیہ بھی قائم تھا جس کی صدر مدرسی حضرت مولوی عبد القادر صاحب رضی اللہ عنہ کے سپر دتھی۔اسی عہد کے بعض یاران قدیم، الحمد لله ، سلسلہ عالیہ احمدیہ میں شریک ہو گئے جیسے حضرت مولوی ابوالبقا محمد ابراہیم صاحب بقا پوری اور ان کے برادر محترم حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ عنہ۔حضرت نواب علی محمد خان صاحب ایک نہایت دیندار۔خدا ترس مخیر اور شب زندہ دار بزرگ تھے۔غدر کے حوادث اور انقلابات نے ان کی طبیعت میں دنیا کی بے ثباتی اور دنیوی شان وشوکت اور مال و منال کی حقیقت کو نمایاں کر دیا تھا۔غدر کے مصائب اور انقلابات نے انہیں یقین دلا دیا تھا کہ مسلمانوں کا بقا صرف مسلمان ہو کر رہنے میں ہے۔اگر چہ جیسا کہ ان کے واقف کاروں نے بتایا کہ وہ ہمیشہ سے ایک پر ہیز گاراور متقی انسان تھے مگر اس انقلاب کے بعد ان کی زندگی میں بھی ایک غیر معمولی انقلاب پیدا ہوا اور ان کا