مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 28
مکتوبات احمد ۲۸ جلد سوم زندگی اور میری موت اور میری ہر یک قوت اور جو مجھے حاصل ہے اپنی ہی راہ میں کر اور اپنی ہی محبت میں مجھے زندہ رکھ اور اپنی ہی محبت میں مجھے مار۔اور اپنے ہی کامل متبعین میں مجھے اُٹھا۔اے ارحم الراحمین! جس کام کی اشاعت کے لئے تو نے مجھے مامور کیا ہے اور جس خدمت کے لئے تو نے میرے دل میں جوش ڈالا ہے اس کو اپنے ہی فضل سے انجام تک پہنچا اور اس عاجز کے ہاتھ سے حجت اسلام مخالفین پر اور ان سب پر جواب تک اسلام کی خوبیوں سے بے خبر ہیں پوری کر اور اس عاجز اور اس عاجز کے تمام دوستوں اور مخلصوں اور ہم مشربوں کو مغفرت اور مہربانی کی نظر سے اپنے ظل حمایت میں رکھ کر دین و دنیا میں آپ ان کا متکفل اور متوتی ہو جا اور سب کو اپنی دارالرضا میں پہنچا اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کی آل اور اصحاب پر زیادہ سے زیادہ درود و سلام و برکات نازل کر۔آمِيْنَ يَارَبِّ الْعَلَمِيْنَ “۔یہ دعا ہے جس کے لئے آپ پر فرض ہے کہ ان ہی الفاظ سے بلا تبدل و تغیر بیت اللہ میں حضرت ارحم الراحمین میں اس عاجز کی طرف سے کریں۔۱۳۰۳ھ والسلام خاکسار غلام احمد مکرر کہ خط ہذا بطور یادداشت اپنے پاس رکھیں۔خط دیکھ کر بتامتر حضور ورقتِ دل دعا کریں۔والسلام (نوٹ) یہ خط آپ نے حضرت منشی احمد جان رضی اللہ عنہ کو جب کہ وہ حج بیت اللہ کے لئے جارہے تھے اور آپ نے جیسا کہ مکتوب مبارک سے ظاہر ہے، بیت اللہ میں اس دعا کے لئے تاکید کی تھی۔چنانچہ حضرت صوفی احمد جان رضی اللہ عنہ نے اپنی جماعت کے ساتھ بیت اللہ اور عرفات میں دعا کی۔اس سال حج اکبر ہوا یعنی جمعہ کے دن، حج سے فراغت پا کر بخیر و عافیت جیسا کہ حضرت اقدس نے تحریر فرمایا تھا۔واپس تشریف لائے اور گیارہ بارہ روز زندہ رہ کر تاریخ احمدیت جلد اول صفحه ۲۶۵