مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 29 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 29

مکتوبات احمد ۲۹ جلد سوم ۱۳۰۳ھ میں لودہا نہ میں وفات پائی۔یہ اس دعا کی قبولیت کا ایک نشان ہے۔حضرت اقدس نے منشی صاحب کی بخیر و عافیت واپسی کے لئے دعا کی تھی۔اس دعا کی قبولیت تو ان کی مع الخیر واپسی سے ظاہر ہے اور یہی ثبوت ہے کہ دعا جو اس خط میں درج ہے۔وہ بھی قبول ہوئی اور بعد کے واقعات اور حالات نے اس کی قبولیت کا مشاہدہ کرا دیا۔کافی ہے سوچنے کو اگر اہل کوئی ہے یہ خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت میں ایک مبسوط باب کا متن ہے۔میں قارئین کرام سے بار بار درخواست کروں گا کہ وہ اس کو پڑھیں کہ کیا یہ اس قلب کی تصویر ہو سکتی ہے جس کو کا ذب اور مفتری کہا جاتا ہے؟ یا اس ضمیر پر تنویر کا مرقع ہے جو غیر فانی جوش اپنے قلب میں رکھتا ہے اور وہ اس شعور سے بول رہا ہے کہ خدا نے اسے کھڑا کیا ہے اور اس کی زندگی کا مقصد صرف ایک ہے کہ میرا مولیٰ مجھ سے راضی ہو جائے۔اگر یہ صیح ہے اور ضر ور صحیح ہے تو اس کے بعد اس کی تکذیب سمجھ لو! کیا نتیجہ پیدا کرے گی؟ یہی وہ دعا ہے جن کے لئے خدا تعالیٰ نے اس پر شعر الہام کیا۔آورم دلم می بلرزد یاد مناجات شوریده اندر حرم (عرفانی کبیر )