مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 27

مکتوبات احمد ۲۷ جلد سوم مکتوب نمبر ۴ از عاجز عائذ بالله الصمد غلام احمد ، با اخویم مخدوم و مکرمی منشی احمد جان صاحب سلمہ اللہ تعالی بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامہ آں مخدوم پہنچا۔ اس عاجز کی غرض پہلے خط سے حج بیت اللہ کے بارے میں صرف اسی قدر تھی کہ سامان سفر میسر ہونا چاہئے ۔ اب چونکہ خدا تعالیٰ نے زاد راہ میسر کر دیا اور عزم مصمم ہے اور ہر طرح سامان درست ہے ۔ اس لئے اب یہ دعا کرتا ہوں کہ خداوند کریم آپ سے یہ عمل قبول فرمائے اور آپ کا یہ قصد موجب خوشنودی حضرت عزب اسمہ ہو۔ اور آپ خیر و عافیت اور سلامتی سے جاویں اور خیر و عافیت اور سلامتی سے یہ تحصیل مرضات اللہ واپس آئیں ۔ امین یا رب العالمین ۔ اور انشاء اللہ یہ عاجز آپ کے لئے بہت دعا کرے گا اور آپ کے پچیس روپے پہنچ گئے ہیں ۔ آپ نے اس نا کارہ کی بہت مدد کی ہے اور ہے اور خالصاً للہ اپنے قول اور فعل اور خدمت سے حمایت اور نصرت کا حق بجالائے ۔ جَزَاكُمُ اللهُ خَيْرَ الْجَزَاءِ وَاحْسَنَ إِلَيْكُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْعُقْبَى - یہ عاجز یقین رکھتا ہے کہ آپ کا یہ عمل بھی حج سے کم نہیں ہوگا ۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ دل تو آپ کی اس قدر جدائی سے محزون اور مغموم رہے گا لیکن آپ جس دولت اور سعادت کو حاصل کرنے کے لئے جاتے ہیں اس فوز عظیم پر نظر کرنے سے انشراح خاطر ہے ۔ خدا تعالیٰ آپ کا ۔ کا حافظ اور حامی رہے اور یہ سفر حان مِنْ كُلِّ الْوُجُوه مبارک کرے۔ آمین اس عاجز نا کارہ کی ایک عاجزانہ التماس یا درکھیں کہ جب آپ کو بیت اللہ کی زیارت بفضل اللہ تعالیٰ میسر ہو تو اس مقام محمود مبارک میں اس احقر عباد اللہ کی طرف سے انہیں لفظوں سے مسکنت و غربت کے ہاتھ بحضور دل اُٹھا کر گزارش کریں کہ :۔ اے ارحم الراحمین! ایک تیرا بندہ عاجز اور ناکارہ ، پُر خطا اور نالائق غلام احمد جو تیری زمین ملک ہند میں ہے۔ اس کی یہ عرض ہے کہ اے ارحم الراحمین! تو مجھ سے راضی ہو اور میری خطیبات اور گناہوں کو بخش کہ تو غفور و رحیم ہے اور مجھ سے وہ کام کرا جس سے تو بہت ہی راضی ہو جائے ۔ مجھ میں اور میرے نفس میں مشرق اور مغرب کی ڈوری ڈال اور میری