مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 304
مکتوبات احمد ۲۴۳ جلد سوم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مکتوب نمبر۷۷ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا ایک نہایت درد ناک خط پہنچا۔درحقیقت اس قد رغم اور صدمہ جو چاروں طرف سے آپ کے دل کو گھیر رہا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا بڑا امتحان ہے۔خدا کرے جو آپ اس امتحان میں صادق نکلیں۔میں نے اس خط کے لکھنے سے پہلے جناب الہی میں بہت دعا کی ہے۔اگر تقدیر مبرم نہ ہو تو قبول ہونے کی امید ہے۔مجھے اب تک آپ نے پتہ نہیں دیا کہ مرض کی کیا حالت ہے۔کیا دست تو نہیں آتے؟ بدن تو بہت لاغر نہیں؟ کس درجے پر بخار معلوم ہوتا ہے؟ اور بخار کو کتنے دن ہو گئے ہیں؟ اور میں ایک نسخہ اس خط کے ہمراہ بھیجتا ہوں۔وہ میرے بہت سی جگہ تجربہ میں آچکا ہے۔برگ بیدا اور گل نیلوفر کے عرق کے ساتھ اس کو کھانا چاہئے۔بلا توقف کھانا شروع کر دیں اور دل برداشتہ نہ ہوں۔خدا سب چیز پر قادر ہے۔دو تین ماہ کی مدت ہوئی کہ میرا لڑ کا مبارک احمد جو اس کی والدہ کو بہت ہی پیارا تھا۔تپ سے فوت ہوا ہے۔اس کے انتقال کے قریب وقت میں۔میں نے ان کو کہہ دیا کہ دیکھو اب یہ لڑکا مرنے والا ہے اور ہمارا تو یہ مذہب ہے کہ جو مارنے والا ہے وہ مرنے والے سے ہمیں زیادہ پیارا ہے اور یہی طریق ایمان کا مل کا ہے کہ صرف یہ کہو کہ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ۔خدا کی امانت تھی۔خدا نے لے لی۔سوانہوں نے لڑکے کی موت کے وقت ایسا ہی کہا۔یہ تو ظاہر ہے کہ اگر کوئی مرجائے تو یہ غیر معمولی بات نہیں۔ہم بھی تو ہمیشہ کے لئے اس دنیا میں نہیں رہیں گے۔خدا کے نزدیک انہیں کو مراتب ملتے ہیں جو اس چند روزہ زندگی میں تلخی دیکھتے ہیں اور خدا تعالیٰ اگر خوش ہوتا ہے تو بدل عطا کرتا ہے۔ہرگز ہرگز طریق عوام نہیں اختیار کرنا چاہئے۔خدا جس سے پیار کرتا ہے اس کو کوئی مصیبت بھی بھیجتا ہے۔سونہایت استقلال سے خدا تعالیٰ پر تو کل کرو اور اس سے نو امید مت ہو اور مجھے اطلاع دیتے رہیں۔والسلام را قم مرزا غلام احمد بقلم خود لے مولوی صاحب نے فرمایا کہ حضور کی دعا کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرما کر رحمت اللہ کو اپنے فضل سے صحت و عافیت بخشی۔الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذلِك