مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 25 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 25

مکتوبات احمد ۲۵ وہ شرمندہ ہوتا ہے ۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ ان لوگوں نے حضرت کے ابتدائی زمانے میں بڑی خدمات کیں مگر خدا جانے کہ ان کے ساتھ ان کے نفس کی کیسی بڑی ملونی تھی کہ ان کا خاتمہ قابل افسوس ہوا ۔ منشی عبدالحق کی طبیعت الٰہی بخش سے متغائر واقع ہوئی تھی ہوا۔ مگر اسے اس کی دوستی نے تباہ کیا ۔ بابو محمد صاحب اخیر وقت تک سلسلے میں رہے گو ان کو کچھ شکوک سلسلے کے بعض اخراجات کے متعلق پیدا ہو گئے تھے ۔ انہوں نے کبھی تعلق کو نہ توڑا اور اخیر وقت تک اسے قائم رکھا ۔ پس مقام خوف ہے۔ انسان اپنی نیکی اور خدمت پر اترائے نہیں اور ہمیشہ حسنِ خاتمہ کے لئے دعا دعا کرتا رہے۔ اس مقصد سے میں نے اس عبرت انگیز واقعہ کولکھا ۔ ( عرفانی ) جلد سوم مکتوب نمبر ۳ مخدومی مکرمی اخویم منشی احمد جان صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ۔ وَجَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرَ الْجَزَاءِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آں مخدوم کا عنایت نامہ پہنچا۔ خداوند کریم کے احسانات کا شکر ادا نہیں ہو سکتا جس نے اس احقر العباد کے لئے ایسے دلی احباب میسر کیے جن کا وجو د اس ناچیز کے لئے موجب عزت و فخر ہے۔ خداوند کریم آپ کو خوش و خرم رکھے اور آپ کو ان دلی تو جہات کا اجر بخشے ۔ یہ عاجز سخت نا کارہ اور حقیر ہے اور حضرت ارحم الراحمین کا سرا سر منت اور احسان ہے کہ اس نالائق پر بغیر ایک ذرہ استحقاق ا سراسر اور ہے کے تفصلات کثیرہ کی بارش کر رہا ہے۔ قصور پر قصور پاتا ہے اور احسان پر احسان کرتا ہے اور ظلم پر ظلم پر اور اور پرظلم دیکھتا ہے اور انعام پر انعام کرتا ہے ۔ فی الحقیقت وہ نہایت رحیم وکریم ہے ۔ ایسی زباں کہاں سے لاؤں جو اس کا شکر ادا کر سکوں ۔ یہ عاجز بیچ اور ذلیل اور بے بضاعت اور سرا سر مفلس ہے ۔اس نے ۔ خاک میں مجھے پایا اور اُٹھالیا اور نالائق محض دیکھا اور میری پردہ پوشی کی ۔ میرے ضعف پر نظر کر کے