مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 302
مکتوبات احمد ۲۴۱ جلد سوم مکتوب نمبر ۷۵ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ مجی اخویم میاں عبداللہ صاحب سلمہ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ آپ کی رخصت منظور ہونے سے بہت خوشی ہوئی اور دُعا ہے کہ عزیز رحمت اللہ کو بھی خدا تعالیٰ اس عہدہ پر پر مستقل فرما دے۔آمین۔اور یہ آپ کے اختیار میں ہے ، جس بات میں آرام دیکھیں وہی طریق اختیار کریں۔چاہیں تو عیال کو ہمراہ لے آویں۔چاہے مجتر د آ جائیں۔چند روز سے ہمارے گھر میں بعض مہمان معہ عیال اُترے ہوئے ہیں اور ان کا ارادہ معلوم ہوتا ہے کہ عید تک اسی جگہ رہیں۔لہذا عید تک کل مکان رکا ہوا ہے لیکن اگر آپ معہ عیال آویں۔تو انشاء اللہ کوئی اور بندوبست ہو جاوے گا۔مستمی علیا کی بیعت منظور کی گئی ہے۔خد تعالی اس کو استقامت بخشے۔والسلام مرزا غلام احمد عفی عنہ ۲۶ اکتوبر ۱۹۰۷ء مکتوب نمبر ۶۔۷۶ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ از عائذ باللہ الصمد غلام احمد بخدمت اخویم میاں عبد اللہ صاحب سنوری نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ مدت مدید کے بعد آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔تمام خط اول سے آخر تک غور سے پڑھا گیا۔میں بخوبی اس بات پر مطمئن ہوں کہ خدا تعالیٰ نے آپ کے دل میں خلوص اور محبت کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اور آپ کو فطرتی مناسبت ہے اور ایسی محبت ہے کہ زمانے کے رنگ بدلا نے سے دور نہیں ہوسکتی۔سو میں آپ پر بہت خوش ہوں۔ظاہری ملاقات میں اگر کچھ بعد واقع ہوگئی ہے تو یہ صوری بعد آپ