مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 299
مکتوبات احمد ۲۳۸ جلد سوم اسی طرح پڑا ہے ( جس جگہ پر پڑا تھا اس کی طرف اشارہ بھی فرمایا ) چونکہ ہمارے سر درد کا دورہ ہے۔اس واسطے اس میں سے ہم نے ایک چاول تک نہیں کھایا۔اس کے بعد جب میں نے غوث گڑھ سے حضور کی خدمت میں وہ زیور بھیجا۔جس کا اس خط میں ذکر ہے تو میں نے ساتھ ہی یہ درخواست بھی بذریعہ عریضہ حضور کی خدمت میں کی کہ کل چونکہ عقیقہ کے روز حضور نے کھانا نہیں کھایا تھا۔اس لئے گزارش ہے کہ مہربانی فرما کر اس زیور کی قیمت میں سے فلاں قدر رقم ( غالبا دور و پیہ لکھے تھے یا اس سے کم و بیش ) کا عمدہ کھانا میری طرف سے تیار کروا کر حضور تناول فرماویں۔اس بات کی طرف حضور نے اپنے اس فقرہ میں اشارہ فرمایا ہے کہ ” آپ کی مرضی کے موافق تعمیل کر دی ہے“۔مکتوب نمبر ۷۰ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مجی اخویم میاں عبداللہ صاحب سلمہ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا چندہ مرسلہ مبلغ ہے ( تمہیں روپے سات آنے ) پہنچ گیا ہے۔میں نے ابھی آپ کے لئے دُعا کی ہے۔سخت امتحان کے دن ہیں۔آپ بھی توجہ سے تو بہ استغفار کرتے رہیں۔بہت دُعا کرتے رہیں۔ہماری جماعت کے لئے ایک خاص رعایت ہوئی مگر معلوم رہے کہ کسی حد تک بعض کا بطور شہادت فوت ہونا ممکن مگر تشویش کامل۔تباہی خانگی سے محفوظ رہے گی۔کم ابتلا ہو گا۔تو بہ کے لئے ہر ایک پر زور دیں اب وقت ہے آئندہ جاڑا خطرناک ہے تاریخ مہر روانگی از ڈاک خانہ قادیان ۳۰ را پریل ۱۹۰۲ء والسلام خاکسار غلام احمد