مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 295
مکتوبات احمد ۲۳۴ جلد سوم مکتوب نمبر ۶۵ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مجی عزیزی اخویم میاں عبداللہ صاحب سلّمۂ تعالیٰ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مبارک ہو۔اللہ تعالیٰ عمر رکھا ہے۔کل بہت تکلیف سے گیا ہے۔دو دنبے ذبح کئے گئے۔جن کا گوشت نہایت عمدہ تھا اور ایک دیگ گوشت کے پلاؤ کی اور ایک دیچہ زردہ شریں مزعفر کا تیار کیا گیا اور روٹی اور گوشت بھی پکایا گیا اور نہایت عمدگی سے مہمانوں کو جو ستر کے قریب ہوں گے۔کھلایا گیا آپ کی نیک نیتی کی وجہ سے دونوں پلا کا ایسے عمدہ تھے جو چھوڑنے کو دل نہ چاہتا تھا۔باعث نہایت لذیذ۔۔دود دو ر کا بیاں کھائیں اور بہت ہی۔۔۔کی قدرت ہے کہ اتفاقاً چاول۔۔عمدہ اور باریک ہاتھ آگئے کہ قادیان میں پیدا نہیں ہو سکتے۔اس لطف کے ساتھ یہ کام صرف (ه ) روپیہ تک انجام پذیر ہو گا مگر آپ سے میں اس قدر لینا نہیں چاہتا۔ہم اس خوشی میں نصف کے شریک ہو جاتے ہیں لہذا آپ صرف ( ه ) روپیہ کسی وقت بھیج دیں۔زیادہ خیریت ہے۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ اتفاقا دعوت عقیقہ کے روز جس قدر مرد مہمان تھے۔گھر میں عورتیں مہمان بھی بہت جمع تھیں۔یہ خوشی کی بات ہے کہ پلاؤ شیر میں نمکین نہایت عمدہ خوشگوار تیار ہوا اور گوشت شور به وسالن بہت عمدہ تھا اور روغن جوش کی قسم میں سے تھا۔والسلام نے اس خط میں تین جگہ پر کچھ عبارت کٹی ہونے کی یہ وجہ ہے کہ اس اصل خط کا اتنا حصہ جدا ہو کر کہیں ضائع ہو گیا ہوا ہے۔ان کٹی ہوئی سطروں سے پہلی اور چھٹی سطر کی کٹی ہوئی عبارت کے متعلق اندازہ سے بھی کچھ نہیں لکھا جا سکتا ہے۔دوسری سطر کے کٹے ہوئے حصہ کا مفہوم جیسا کہ مولوی عبداللہ صاحب نے بتایا۔یہ تھا کہ ” دراز کرے اس کا نام برکت اللہ تیسری جگہ کے اس حصہ کا مفہوم مولوی صاحب نے یہ بتایا کہ اس کا عقیقہ کیا اور چوتھی کا ہونے کے بجائے ایک ایک رکابی کے (بعض) نے “ اور پانچویں کا خوش ہوئے خدا تعالیٰ“۔