مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 293
مکتوبات احمد ۲۳۲ جلد سوم مکتوب نمبر ۶۴ بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مجی عزیزی میاں عبداللہ صاحب سلمہ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔لدھیانہ میں طاعون پیدا ہونے سے بہت اندیشہ ہوا۔خدا تعالیٰ خیر کرے۔اس میں مسئلہ شرعی یہ ہے کہ اگر طاعون یا ہیضہ کی ایک دو واردات ہوں تو اس شہر سے نکلنا جائز ہے۔لیکن اگر و با پھیل جاوے۔تو پھر نکلنا حرام ہے۔چونکہ ابھی لدھیانہ میں وبا پھیلا نہیں ہے۔اس لئے اختیار ہے کہ وہاں سے جلد نکل جائیں۔اس جگہ بڑی مشکل یہ ہے کہ مکان نہیں ملتا۔اکثر لوگ شرارت سے دیتے نہیں۔ہمارے گھر میں بیس کے قریب عورتیں بھری ہوئی ہیں۔نواب صاحب بھی مع عیال واطفال اس جگہ ہیں۔سو اس گھر میں تو بالکل گنجائش نہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ قریب قریب بھی کوئی گنجائش نہیں اور دور میں شاید بہت تلاش کرنے سے کوئی ویران کو ٹھہ بے پردہ مل جائے تو تعجب نہیں مگر شرفاء کے رہنے کے لائق تو کوئی نظر نہیں آتا۔جب تک مکان کا پختہ بندوبست نہ ہو دے، ہر گز قدم نہیں اُٹھانا چاہئے تا عیال اور اطفال کو تکلیف نہ ہو۔دوسرے یہ بات بھی سوچنے کے لائق ہے کہ طاعون کا دورہ ساٹھ ساٹھ اتنی اتنی برس ہوتا ہے۔پس اگر طاعون لدھیانہ میں پھیل گئی تو یہ سمجھو کہ شاید اس صدی کے پورے ہونے تک پیچھا نہیں چھوڑے گی۔یہ یقینی امر ہے نہ ظنی۔طبی تجر بے اس کی گواہی دیتے ہیں۔پھر اگر شہر کو چھوڑ نا ہو تو اس نیت سے چھوڑ نا چاہئے کہ اب تمام عمر ہم اس سے الگ رہیں گے اور اپنے مکانات اور دوسرے تعلقات کا پورا انتظام کرنا چاہئے کیونکہ یہ سفر گویا ہمیشہ کے لئے الوداع ہے۔پھر دوبارہ شہر میں داخل ہونا ممانعت ہوگی۔اگر خدا چاہے تو چند وارداتوں کے بعد اس بیماری کو لدھیانہ سے دور کر دے لیکن اگر یہ بیماری لدھیانہ میں پھیل گئی تو پھر غالبا ایک عمر لے گی۔دیکھو کتنے برس سے بمبئی میں پھیل رہی ہے۔یہ تمام امور سوچ لینے چاہئیں۔یہ سرسری کام نہیں ہے۔اگر لدھیانہ کے قریب کوئی گاؤں ہو جو طاعون سے پاک ہو تو بہتر ہوگا کہ اس میں گھر لیا جائے۔اس میں فائدہ یہ ہے کہ برابر ہر روز خبر رکھ سکتے ہیں۔زیادہ خیریت ہے۔والسلام