مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 287
مکتوبات احمد ۲۲۶ جلد سوم مکتوب نمبر ۵۳ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ محبی اخویم میاں عبداللہ صاحب سلمہ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ چونکہ میاں غلام قادر کی طبیعت اچھی نہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ روز بروز کمزور ہوتی جاتی ہے۔ابھی تک کچھ فائدہ نہیں معلوم ہوتا۔اس لئے آپ خود آ کر یا کسی دوسرے کو بہت جلد بھیج کر اس بات کی تحریک کریں کہ کسی طرح وہ سنور میں چلے جائیں۔شاید تبدیلی ہوا سے خدا تعالیٰ فضل کرے۔اس میں تو قف نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اگر حالت زیادہ خراب ہو تو پھر سفر مشکل ہے۔۹ را پریل ۱۸۹۶ء خاکسار غلام احمد عفی عنہ مکتوب نمبر ۵۴ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مجی اخویم میاں عبداللہ صاحب سلمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته آپ کا کارڈ پہنچا۔بہت خوشی کی بات ہے کہ آپ کی دوماہ کی رخصت منظور ہوگئی۔اب آپ کو جلد اس جگہ آنا چاہئے۔منشی غلام قادر صاحب کی طبیعت بہ نسبت سابق صحت کی طرف مائل معلوم ہوتی ہے۔البتہ تپ ہنوز دامنگیر ہے۔خدا تعالیٰ شفاء بخشے۔آپ جہاں تک ممکن ہو بہت جلدی آویں۔دیر نہ کریں کیونکہ آپ کے آنے سے ان کو بہت حوصلہ ہوگا۔زیادہ خیریت ہے۔والسلام ۲۱ را پریل ۱۸۹۶ء خاکسار غلام احمد عفی عنہ نے مولوی عبد اللہ صاحب فرماتے ہیں کہ میاں غلام قادر میرے رشتہ کے بھائی تھے۔انہیں مرض سل ہو گئی تھی اور بہت ڈ بلے ہو گئے تھے۔جس پر بغرض علاج از حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول رضی اللہ عنہ میں انہیں یہاں لے آیا تھا۔حضرت اقدس نے بھی ان کے لئے ایک نسخہ تجویز فرمایا تھا۔مگر وہ جانبر نہ ہوئے اور وا پس سنور پہنچ کر وفات پاگئے۔