مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 255
مکتوبات احمد ۱۹۴ جلد سوم مشفقی مکرمی اخویم سلّمہ اللہ تعالیٰ مکتوب نمبر السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبركاته سورۃ بقرہ کا لفظ خواب میں سنائی دینا اس کے بات کی طرف اشارہ ہے کہ سورۃ بقرہ کی طرف رجوع کرو۔پس کسی نوع کی کسر ہے جو سورۃ بقرہ کی طرف رجوع دلا یا گیا ہے اور اس سورۃ میں حقوق اللہ اور حقوق عباد کی بہت تفصیل ہے اور امر اور نہی کھول کر بیان کیا گیا ہے اور صبر اور ایثار کی بہت تاکید ہے۔پس غور سے سورۃ بقرہ کا ترجمہ پڑھو اور جہاں اور جس امر یا نہی میں اپنے تئیں قاصر دیکھو اس حالت کو درست کرو۔آفتاب سے سے مراد اچھی حالت یا والدین مراد ہیں یا ا کابردین جن سے فائدہ دین کا پہنچے۔بہر حال یہ خواب اچھی ہے آپ کی تیسری خواب بھی اچھی ہے اور عاجز دعا سے غافل نہیں ہے۔یکم نومبر ۸۴ء والسلام خاکسار غلام احمد ا حضور کے اصل خط میں یہ الفاظ اسی طرح پر ہی لکھے ہوئے ہیں۔مولوی عبداللہ صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ دو آفتاب جن کے درمیان کچھ تھوڑا سا فاصلہ تھا۔مغرب کی طرف سے چڑھے اور نصف النهار تک پہنچتے ہیں۔سو جب حضور نے اس خواب کی یہ تعبیر کی تو اس میں ا کا بر دین جن سے فائدہ دین کا پہنچے“ کے الفاظ سے میں اسی وقت یہ بات سمجھا کہ ایک آفتاب تو خود حضور ہیں اور دوسرے آفتاب کے لئے منتظر تھا۔جب حضور نے ہوشیار پور سے پسر موعود کا اشتہار دیا تو اس وقت مجھ کو بہت خوشی ہوئی اور مجھے یقین ہو گیا کہ دوسرا آفتاب یہی ہے اور اس کو میں بخوبی دیکھوں گا۔سو الْحَمْدُ لِلَّهِ کہ میں نے یہ دوسرا آفتاب بھی دیکھ لیا جو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ ثانی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں۔