مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 254
مکتوبات احمد ۱۹۳ شروع جنوری ۱۸۸۶ ء میں مولوی عبداللہ صاحب ۔ حافظ حامد علی صاحب اور ایک شخص فتح خاں نام کو اپنے ہمراہ لے کر سیدھے ہوشیار پور کو روانہ ہو گئے اور وہاں پہنچ کر شیخ مہر علی صاحب رئیس ( جو اس وقت حضور سے محبت اور اخلاص رکھتے تھے ) کے طویلہ میں جا کر چالیس روز تک ایک بالا خانہ میں بالکل الگ رہے ۔ حضور کے ہر سہ خدام رفقاء اسی طویلہ میں نیچے کے حصہ میں الگ رہتے تھے ۔ چنانچہ وہاں حضور نے چلہ کشی کی اور پھر ۲۰ روز وہاں اور ٹھہر کر مارچ ۱۸۸۶ء میں واپس قادیان کو تشریف لائے ۔ ہندوستان کی سیر ۱۸۸۹ء میں آکر حضور نے صرف اس قدر کی کہ لدھیانہ میں بیعت لینے کے بعد علی گڑھ تشریف لے گئے اور وہاں ایک ہفتہ کے قریب سید تفضل حسین صاحب تحصیلدار کے ہاں ٹھہر کر وہاں سے پھر واپس لدھیا نہ تشریف لائے ۔ جلد سوم (عرفانی ) مشفقی اخویم سلمه مکتوب نمبر ۲ بعد سلام مسنون آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔ یہ عاجز کچھ دنوں سے بیمار ہے ۔ طاقت زیادہ تحریر کی نہیں ۔ ضعف بہت سا ہو رہا ہے ۔ مگر آپ کی خوا ہیں انشاء اللہ نیک ہیں ۔ جائے فکر نہیں ۔ مفصل لکھنے کی اگر طاقت ہوتی تو لکھتا مگر ضعف سے مجبور ہوں ۔ ۱۶ اکتوبر ۱۸۸۴ء والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان