مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 253
مکتوبات احمد ۱۹۲ جلد سوم مکتوب نمبر ا بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ مشفقی مکرمی اخویم میاں عبداللہ صاحب سلمہ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ بعد سلام مسنون آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔ابھی تک باعث بعض موانع یہ عاجز قادیان میں ہے سوجان پور کی طرف نہیں گیا اور بوجہ علالت وضعف طبیعت ابھی ہندوستان کی سیر میں تامل ہے۔شاید اگر خدا تعالیٰ نے چاہا تو یہ بات موسم سرما میں میسر آجائے۔ہر ایک امر اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔کبھی کبھی اپنے حالات سے مطلع فرماتے رہیں۔خواب آپ کی انشاء اللہ بہت عمدہ ہے کہ بعض نفسانی آلائشوں سے پاک ہونے کی طرف اشارہ ہے۔واللہ اعلم۔۷ ستمبر ۱۸۸۴ء خاکسار غلام احمد از قادیان (نوٹ ) سو جان پور کی طرف تشریف لے جانے کا ارادہ حضور کا اس بنا پر تھا کہ حضور کو ان ایام میں یہ خواہش تھی کہ کسی ایسی جگہ چلے جائیں جہاں نہ ہم کسی کو جانتے ہوں نہ ہمیں کوئی جانتا ہو۔اس پر جناب مولوی عبداللہ صاحب نے حضور کی خدمت میں درخواست کی کہ حضور اس خاکسار (مولوی عبداللہ صاحب) کو بھی اپنے ہمراہ لے جائیں۔حضور نے مولوی عبد اللہ صاحب کی اس درخواست کو منظور فرما لیا۔اسی بنا پر مولوی عبداللہ صاحب کے خط کے جواب میں حضور نے تحریر فرمایا کہ ابھی تک باعث بعض موانع یہ عاجز قادیان میں ہے۔سو جان پور کی طرف نہیں گیا۔اسی اثنا میں حضور کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا کہ ”تمہاری عقدہ کشائی ہوشیار پور میں ہوگی لے اس لئے حضور نے سو جان پور کی طرف جانے کا ارادہ ملتوی کر کے ہوشیار پور جانے کا ارادہ فرمالیا۔چنانچہ اسی بنا پر حضور تذکره صفحه ۱۰۶ مطبوعه ۲۰۰۴ء