مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 18 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 18

مکتوبات احمد ۱۸ جلد سوم راہ میں ہی بیمار ہو گئے اور گھر آتے ہی فوت ہو گئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ۔اس میں کچھ شک نہیں کہ منشی صاحب علاوہ اپنی ظاہری علمیت و خوش تقریری و وجاہت کے جو خدا داد انہیں حاصل تھی مومن صادق اور صالح آدمی تھے جو دنیا میں کم پائے جاتے ہیں۔چونکہ وہ عالی خیال اور صوفی تھے اس لئے ان میں تعصب نہیں تھا۔میری نسبت وہ خوب جانتے تھے کہ یہ حنفی تقلید پر قائم نہیں ہیں اور نہ اسے پسند کرتے ہیں پھر بھی یہ خیال انہیں محبت و اخلاص سے نہیں روکتا تھا۔غرض کچھ مختصر حال منشی احمد جان صاحب مرحوم کا یہ ہے اور لڑکی کا بھائی صاحبزادہ افتخار احمد صاحب بھی نوجوان صالح ہے۔جو اپنے والد مرحوم کے ساتھ حج بھی کر آئے ہیں۔“ حضرت منشی احمد جان صاحب رضی اللہ عنہ کی فراست مومنانہ نے بہت پہلے دیکھ لیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خدا تعالیٰ کی طرف سے مسیح موعود بن کر مبعوث ہوں گے۔چنانچہ انہوں نے جو اعلان براہین احمدیہ کی اعانت کے لئے شائع کیا اس میں لکھا۔تم مسیحا مسیحا بنو خدا کے لئے اگر چہ وہ اعلان بیعت سے پہلے فوت ہو گئے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو مبائعین میں شریک قرار دیا اور ان کے اخلاص و عقیدت کو انعام میں داخل فرمایا۔حضرت منشی احمد جان صاحب رضی اللہ عنہ نے اپنی اولا د اور مریدوں کو قبول سلسلہ کی وصیت فرمائی اور خدا کے فضل و کرم سے آپ کا سارا خاندان سلسلہ احمدیہ میں شریک اور صدق و وفا کے اعلیٰ مقام پر ہے اور حضرت موصوف کی صاحبزادی صغری بیگم صاحبہ کو یہ شرف حاصل ہوا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریک سے اس جلیل القدر انسان کے نکاح میں آئیں جس کی نسبت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔چہ خوش بودے اگر ہر یک ز اُمت نور دیں بودے ہمیں بودے اگر ہر دل پر از نور یقیں بودے اور جس کے اخلاص و ایثار اور قربانی کا یہ ثمرہ اس دنیا میں ہوا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد آپ کے خلیفہ اول منتخب ہوئے اور حضرت منشی احمد جان رضی اللہ عنہ کی نواسی کو یہ شرف