مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 230
مکتوبات احمد ۱۶۹ حضرت سید خصیلت علی شاہ صاحب کے انتقال پر حضرت اقدس نے حکیم صاحب مرحوم کو تعزیت کا ایک خط لکھا تھا اور یہی وہ مکتوب ہے جسے میں آج درج کر رہا ہوں ۔ - اس کے پڑھنے سے معلوم ہوگا کہ سید صاحب مرحوم کے اخلاص و محبت کی حضرت اقدس کے دل میں کیا قدرتھی اور انہوں نے سلسلہ میں داخل ہو کر کیسی پاک تبدیلی کی تھی ۔ اللہ تعالیٰ اُن کے مدارج کو بلند کرے اور ہمیں توفیق دے کہ وہی حقیقت اور روح اپنے اعمال میں پیدا کریں۔ ( عرفانی کبیر ) مکتوب نمبرا جلد سوم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ محبی مکرمی اخویم حکیم سید حسام الدین صاحب سلمہ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ اس وقت یک دفعه دردناک مصیبت واقعه وفات اخویم سید خصیلت علی شاہ صاحب مرحوم کی خبر سن کر وہ صدمہ دل پر ہے جو تحریر اور تقریر سے باہر ہے ۔ طبیعت اس غم سے بے قرار ہوئی جاتی ہے۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ ۔ سید خصیلت علی شاہ صاحب کو جس قدر خدا تعالیٰ نے اخلاص بخشا تھا اور جس قدر انہوں نے ایک پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کی تھی اور جیسے انہوں نے اپنی سعادت مندی اور نیک چلنی اور صدق و محبت کا عمدہ نمونہ دکھایا تھا یہ باتیں عمر بھر کبھی بھولنے کی نہیں ۔ ہمیں کیا خبر تھی ، اب دوسرے سال پر ملاقات نہیں ہوگی ۔ دنیا کی اسی نا پائیداری کو دیکھ کر کئی بادشاہ بھی اپنے تختوں سے الگ ہو گئے ۔ آپ کے دل پر بھی جس قدر ہجوم غم کا ہوگا اس کا کون اندازہ کر سکتا ہے۔ اس ناگہانی واقعہ کا غم در حقیقت کا ایک جانکاہ امر ہے لیکن چونکہ یہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے اس لئے ایسی بھاری مصیبت پر جس قد رصبر کیا جائے اسی قدر امید ثواب ہے۔ لہذا امید رکھتا ہوں کہ آپ مرضی مولا پر راضی ہو کر صبر فرماویں گے اور مردانہ ہمت اور استقامت سے متعلقین کو تسلی دیں گے ۔ میں نے ایک جگہ دیکھا ہے کہ بعض