مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 229
مکتوبات احمد ۱۶۸ جلد سوم حضرت میر حکیم حسام الدین صاحب سیالکوٹی رضی اللہ تعالی عنہ کے نام تعارفی نوٹ حضرت میر حکیم حسام الدین صاحب رضی اللہ عنہ سیالکوٹ کے رئیس اور حضرت میر حامد شاہ صاحب رضی اللہ عنہ کے والد بزرگوار تھے۔حضرت حکیم صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے شرف تلمذ بھی حاصل تھا۔آپ نے طب کی بعض ابتدائی کتابیں حضور سے پڑھی تھیں۔حکیم صاحب مرحوم نے حضرت اقدس کو عین عنفوان شباب میں دیکھا تھا اور حضور کی متقیانہ زندگی کا اُن پر خاص اثر تھا۔حضرت کی نیم شبی دعاؤں اور قرآن مجید کے ساتھ عشق و محبت کے نظارے ان کے دل کو تسخیر کر چکے تھے اور یہی وجہ ہے کہ جب حضرت اقدس نے خدا کی طرف سے مامور اور مرسل ہونے کا دعوی کیا تو حضرت حکیم صاحب کو ایک لحظہ کے لئے بھی شک و شبہ نہیں ہوا۔حضرت اقدس بھی حکیم صاحب سے بہت محبت رکھتے تھے۔حکیم صاحب مرحوم تیز طبیعت واقع ہوئے تھے لیکن حضرت اقدس کے سامنے وہ بہت موڈب اور محتاط ہوتے تھے۔حضور کو حکیم صاحب کی دلجوئی اور خاطر داری ہمیشہ ملحوظ رہتی تھی۔منارة المسح کی تعمیر کا کام جب شروع ہوا تو حکیم صاحب مرحوم ہی کو اس کا اہتمام دیا گیا اور اُنہوں نے اپنے صاحبزادے میر عبدالرشید صاحب مرحوم کو اس کام پر مامور کیا۔غرض حضرت اقدس کے ساتھ حکیم صاحب کا اخلاص و محبت قابلِ رشک تھی اور حضور بھی ان کا احترام کرتے تھے۔حضرت حکیم صاحب کے ساتھ حضرت میر خصیلت علی شاہ صاحب رضی اللہ عنہ کو تعلقات دامادی کی عزت حاصل تھی اور خود سیّد خصیلت علی شاہ صاحب بھی اپنے ایمانی جوش اور اخلاص و وفا کے اعلیٰ مقام پر تھے۔سیرۃ صحابہ کے سلسلہ میں ان بزرگوں کا انشاء اللہ تفصیلی ذکر آئے گا۔