مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 214 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 214

مکتوبات احمد ۱۵۳ جلد سوم مکتوب نمبر ۲ مند و می مکر می اخویم سید محمد عسکری سلَّمَهُ رَبُّهُ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ پہنچا موجب تسلی ہوا۔میں آپ کے واسطے غائبانہ بہت دعا کرتا ہوں اور آپ کے اخلاص سے خوش ہوں۔اللہ جل شانہ آپ کے تردّدات دور کرے۔اس وقت میں آپ کو تکلیف دینا نہیں چاہتا۔اپریل یا مئی کے مہینے میں انشاء اللہ القدیر آپ کی یاد دہانی پر بشرط خیریت و عدم موانع آپ کو اطلاع دوں گا اور شاید ان مہینوں میں کسی ایسے مقام میں میرا قیام ہو جس میں بآسانی ملاقات ہو جائے۔مجھے اس وقت تالیف رسالہ ” سراج منیر کے لئے نہایت مصروفیت اور خلوت ہے اور میری زندگی صرف احیاء دین کے لئے ہے۔اور میرا اصول دنیا کی بابت یہی ہے کہ جب تک اس سے بلکلی منہ نہ پھیر لیں ، ایمان کا بچاؤ نہیں۔راحت و رنج گزرنے والی چیز میں ہیں۔اگر ہم دنیا کے چند دم مصیبت و رنج میں کاٹیں گے تو اس کے عوض جاودانی راحت پائیں گے۔بہشت انہیں کی وراثت ہے کہ جو دنیا کے دوزخ کو اپنے لئے قبول کرتے ہیں اور لذات عیش و عشرت دنیوی کے لئے مرے نہیں جاتے۔دنیا کیا حقیقت رکھتی ہے اور اس کے رنج و راحت کیا چیز ہیں ؟ آخری خوش حالی کی خواہش ہے اس کے لئے یہی بہتر ہے کہ تکالیف دنیوی کو بانشراح صدر اٹھائے اور اس نابکار گھر کی عزت اور ذلت کچھ چیز نہ سمجھے۔یہ دنیا بڑا دھوکہ دینے والا مقام ہے جس کو آخرت پر ایمان ہے وہ کبھی اس کے غم سے غمگین نہیں ہوتا اور نہ اس کی خوشی سے خوش ہوتا ہے۔والسلام حمد ۷ فروری ۱۸۸۷ء الحکم نمبر ۲۷ جلد ۳۷ مورخه ۲۸ / جولائی ۱۹۳۴ء صفحریم