مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 140 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 140

مکتوبات احمد ۱۳۲ جلد سوم مولوی رشید احمد صاحب نے اس کے جواب میں پھر یہی لکھا کہ میں لا ہور نہیں جا تا صرف سہارنپور تک آ سکتا ہوں اور بحث تحریری مجھے منظور نہیں۔نہ میں خود لکھوں اور نہ کسی دوسرے شخص کو لکھنے کی اجازت بھی دے سکتا ہوں۔حضرت اقدس نے اس خط کو پڑھ کر فرمایا کہ ان لوگوں میں کیوں قوت فیصلہ اور حق و باطل کی تمیز نہیں رہی اور ان کی سمجھ بوجھ جاتی رہی۔یہ حدیث پڑھاتے ہیں اور محدث کہلاتے ہیں مگر فہم وفراست سے ان کو کچھ حصہ نہیں ملا۔صاحبزادہ صاحب! ان کو یہ لکھ دو کہ ہم مباحثہ کے لئے سہارنپور ہی آجاویں گے۔آپ سرکاری انتظام کر لیں جس میں کوئی یورپین افسر ہوا اور ہندوستانیوں پر پورا اطمینان نہیں ہے۔بعد انتظام سرکاری ہمیں لکھ بھیجیں اور کاغذ سرکاری بھیج دیں۔میں تاریخ مقرر پر آجاؤں گا اور ایک اشتہار اس مباحثہ کی اطلاع کے لئے شائع کر دیا جاوے گا تاکہ لاہور وغیرہ مقامات سے صاحب علم اور مباحثہ سے دلچسپی رکھنے والے صاحب سہارنپور آ جاویں گے۔ور نہ ہم لاہور میں سرکاری انتظام کر سکتے ہیں اور پورے طور سے کر سکتے ہیں۔رہا تقریری اور تحریری مباحثہ وہ اُس وقت پر رکھیں تو بہتر ہے، جیسی حاضرین جلسہ کی رائے ہو گی۔کثرت رائے پر ہم تم کار بند ہوں ، خواہ تحریری خواہ تقریری جو مناسب سمجھا جاوے گا وہ ہو جاوے گا۔آپ مباحثہ ضرور کریں کہ لوگوں کی نظریں آپ کی طرف لگ رہی ہیں۔یہ تقریر میں نے مولوی صاحب کو لکھ بھیجی۔مولوی صاحب نے کچھ جواب نہ دیا۔صرف اس قدر لکھا کہ انتظام کا میں ذمہ دار نہیں ہو سکتا ہوں۔پھر میں نے دو تین خط بھیجے جواب ندارد۔