مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 139 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 139

مکتوبات احمد ۱۳۱ جلد سوم گے تو تمام اخبارات میں آپ کے اور ہمارے خط چھپ کر شائع ہو جاویں گے۔پڑھنے والے آپ نتیجہ نکال کر کے مطلب و مقصد اصلی حاصل کر لیں گے۔پھر دوسرے موقعہ پر حضرت اقدس نے فرمایا مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کو ضرور لکھو اور حجت پوری کرو اور یہ کھو کہ اچھا ہم بطریق تنزّل تقریری مباحثہ ہی منظور کرتے ہیں مگر اس شرط سے کہ آپ تقریر کرتے جاویں اور دوسرا شخص آپ کی تقریر کولکھتا جاوے اور جب ہم تقریر کریں تو ہماری جوابی تقریر کو بھی دوسرا شخص لکھتا جاوے اور جب تک ایک کی تقریر ختم نہ ہوئے تو دوسرا فریق بالمقابل یا اور کوئی دوران تقریر میں نہ بولے۔پھر وہ دونوں تقریریں چھپ کر شائع ہو جاویں۔لیکن بحث مقام لاہور ہونی چاہئے۔کیونکہ لاہور دار العلوم ہے اور ہر علم کا آدمی وہاں پر موجود ہے۔میں نے یہی تقریر حضرت اقدس امام ہمام علیہ السلام کی مولوی صاحب کے پاس بھیج دی۔مولوی صاحب نے لکھا کہ تقریر صرف زبانی ہوگی، لکھنے یا کوئی جملہ نوٹ کرنے کی کسی کو اجازت نہ ہوگی اور جو جس کے جی میں آوے گا حاضرین میں سے رفع اعتراض وشک کے لئے بولے گا۔میں لاہور نہیں جاتا۔مرزا ہی سہارنپور آجاوے اور میں بھی سہارنپور آ جاؤں گا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ کیا بودا پن ہے اور کیسی پست ہمتی ہے کہ اپنی تحریر نہ دی جاوے۔تحریر میں بڑے بڑے فائدے ہیں کہ حاضرین و غائبین اور نزدیک و دور کے آدمی بھی فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اور فیصلہ کر سکتے ہیں۔زبانی تقریر محدود ہوتی ہے جو حاضرین اور سامعین تک رہ جاتی ہے۔حاضرین و سامعین بھی زبانی تقریر سے پورا فائدہ اور کامل فیصلہ نہیں کر سکتے۔مولوی صاحب کیوں تحریر دینے سے ڈرتے ہیں۔ہم بھی تو اپنی تحریر دیتے ہیں۔گویا ان کا منشا یہ ہے کہ بات بیچ بیچ میں خلط مبحث ہو کر رہ جاوے۔اگر گڑ بڑ پڑ جائے۔اور سہارنپور میں مباحثہ ہونا مناسب نہیں ہے، سہارنپور والوں میں فیصلہ کرنے یا حق و باطل کی سمجھ نہیں ہے۔لاہور آج دار العلوم اور مخزن علم ہے اور ہر ایک ملک اور شہر کے لوگ اور ہر مذہب و ملت کے اشخاص وہاں موجود ہیں۔آپ لا ہور چلیں اور میں بھی لاہور چلا چلتا ہوں اور آپ کا خرچ آمد و رفت اور قیام لاہور ایام بحث تک اور مکان کا کرایہ اور خرچ میرے ذمہ ہو گا۔سہارنپور اہل علم کی بستی نہیں ہے۔سہارنپور میں سوائے شور و شر اور فساد کے کچھ نہیں ہے۔یہ مضمون میں نے لکھ کر اور حضرت اقدس علیہ السلام کے دستخط کرا کر گنگوہ بھیج دیا۔