مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 138 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 138

مکتوبات احمد ۱۳۰ جلد سوم عقائد میں ہاتھ مارا ہے اور ان کی جائیداد دبالی ہے اور حضرت عیسی علیہ السلام کو جن پر ان کی بڑی بڑی امیدیں وابستہ تھیں اور ان کے آسمان سے اترنے کی آرزور رکھتے تھے، مار ڈالا ہے۔جس کو وہ آسمان میں بٹھائے ہوئے تھے اس کو ہم نے زمین میں دفن کر دیا ہے اور ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے اور بقول ان مولویوں کے اسلام میں رخنہ ڈال دیا ہے اور لوگوں کو گھیر گھار کر اپنی طرف کر لیا ہے۔جس کا نقصان ہوتا ہے وہی روتا اور چلاتا ہے۔یہ مولوی حامیانِ دین اور محافظ اسلام کہلا کر اتنا نہیں سمجھتے کہ اگر کوئی ان کی جائیداد دبا لے اور مکان اور اسباب پر قبضہ کرلے تو یہ لوگ عدالت میں جا کھڑے ہوں اور لڑنے مرنے سے بھی نہ ہیں اور نہ ملیں جب تک کہ عدالت فیصلہ نہ کرے اور آپ یہ بہانے بناتے ہیں کہ ہمیں کیا غرض ہے۔گویا یوں سمجھو کہ ان کو دین اسلام اور ایمان سے کچھ غرض نہیں رہی۔اور اب یہ حیلہ و بہانہ کرتے ہیں کہ ہمیں کیا غرض ہے۔اگر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں اور ان کے ہاتھ پلے کچھ نہیں ہے اور در حقیقت کچھ نہیں ہے۔ان کے باطل اعتقاد کا خرمن جل کر راکھ ہو گیا۔یہ اگر اس بحث میں پڑیں تو ان کی مولویت کو بٹہ لگتا ہے اور ان کے علم و فضل کو سیاہ دھبہ لگتا ہے۔ان کی پیری پر آفت آتی ہے۔ان کو لکھو کہ مولوی صاحب آپ تو علم لدنی اور باطنی کے بھی مدعی ہیں۔اگر ظاہری علم آپ کا آپ کو مدد نہ دے، باطنی اور لدتی علم سے ہی کام لیں یہ کس دن کے واسطے رکھا ہوا ہے۔پس میں نے یہ تقریر حضرت اقدس علیہ السلام کی اور کچھ اور تیز الفاظ نمک مرچ لگا کر قلم بند کر کے مولوی صاحب کے پاس بھیج دی۔اس کے جواب میں مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی نے یہ لکھا۔میں تقریری بحث کرنے کو تیار ہوں اور اگر مرزا صاحب تحریری بحث کرنا چاہیں تو ان کا اختیار ہے۔میں تحریری بحث نہیں کرتا۔لاہور سے بھی بہت لوگوں کی طرف سے ایک خط مباحثہ کے لئے آیا ہے۔مرزا چاہے تقریری بحث کرے۔جب کسی طرح مولوی صاحب کو مفر کی جگہ نہ رہی اور سراج الحق سے مخلصی نہ ہوئی اور لاہور کی ایک بڑی جماعت کا خط پہنچا اور ادھر حضرت اقدس کی خدمت میں بھی اس لاہور کی جماعت کی طرف سے مولوی رشید احمد کے مباحثہ کے لئے درخواست آگئی اور اس جماعت نے یہ بھی لکھا کہ مکان مباحثہ کے لئے اور خور و نوش کا سامان ہمارے ذمہ ہے اور میں نے بھی مولوی صاحب کو یہ لکھا کہ اگر آپ مباحثہ نہ کریں گے اور ٹال مثال بتائیں گے اور کچے پکے عذروں سے جان چھڑاویں