مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 137
مکتوبات احمد ۱۲۹ جلد سوم مجھ کو ہرگز منظور نہیں ہے اور عام جلسہ میں بحث ہوگی۔اور وفات وحیات مسیح میں کہ یہ فرع ہے، بحث نہیں ہوگی بلکہ بحث نزول مسیح میں ہوگی جو اصل ہے۔کتبہ رشید احمد گنگوہی۔یہ خط مولوی صاحب کا حضرت اقدس علیہ السلام کو دکھلایا۔فرمایا خیر شکر ہے کہ اتنا تو تمہارے لکھنے سے اقرار کیا کہ مباحثہ کے لئے تیار ہوں، گو تقریری سہی ورنہ اتنا بھی نہیں کرتے تھے۔اب اس کے جواب میں یہ لکھ دو کہ مباحثہ میں خلط مبحث کرنا درست نہیں۔بحث تحریری ہونی چاہئے تا کہ غائبین کو بھی سوائے حاضرین کے پورا پورا حال معلوم ہو جاوے اور تحریر میں خلط مبحث نہیں ہوتا اور زبانی تقریر میں ہو جاتا ہے۔تقریر کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا اور نہ اس کا اثر کسی پر پڑتا ہے اور نہ پورے طور سے یادرہ سکتی ہے اور تقریر میں ایسا ہوناممکن ہے کہ ایک بات کہہ کر اور زبان سے نکال کر پھر جانے اور مکر جانے کا موقع مل سکتا ہے اور بعد بحث کے کوئی فیصلہ نہیں ہوسکتا اور ہر ایک کے معتقد کچھ کا کچھ بنا لیتے ہیں کہ جس سے حق و باطل میں التباس ہو جاتا ہے۔اور تحریر میں یہ فائدہ ہے کہ اس میں کسی کو کمی بیشی کرنے یا غلط بات مشہور کرنے کی گنجائش نہیں رہتی ہے۔اور آپ جو فرماتے ہیں کہ مباحثہ اصل میں جو نزول مسیح ہے ہونا چاہئے ، سو اس میں یہ التماس ہے کہ مسیح اصل کیوں کر ہے؟ اور وفات وحیات مسیح فرع کس طرح سے ہوئی ؟ اصل مسئلہ تو وفات حیات مسیح ہے۔اگر حیات مسیح کی ثابت ہوگئی تو نزول بھی ثابت ہو گیا اور جو وفات ثابت ہوگئی تو نزول خود بخو د باطل ہو گیا۔جب ایک عہدہ خالی ہو تو دوسرا اس عہدہ پر مامور ہو۔ہمارے دعوے کی بناء ہی وفات مسیح پر ہے۔اگر مسیح کی زندگی ثابت ہو جاوے تو ہمارے دعوے میں کلام کرنا فضول ہے۔مہربانی فرما کر آپ سوچیں اور مباحثہ کے لئے تیار ہو جاویں کہ بہت لوگوں اور نیز مولویوں کی آپ کی طرف نظر لگ رہی ہے حضرت اقدس علیہ السلام نے اس پر دستخط کر دیئے اور میں نے اپنے نام سے یہ خط مولوی صاحب کے پاس گنگوہ بھیج دیا۔مولوی رشید احمد صاحب نے اس خط کے جواب میں یہ لکھا کہ افسوس ہے مرزا صاحب اصل کو فرع اور فرع کو اصل قرار دیتے ہیں اور مباحثہ بجائے تقریری کے تحریری مباحثہ میں نہیں کرتا اور ہمیں کیا غرض ہے کہ ہم اس مباحثہ میں پڑیں۔یہ خط بھی میں نے حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کو سنا دیا۔آپ نے یہ فرمایا کہ ہمیں افسوس کرنا چاہیے نہ مولوی صاحب کو، کیونکہ ہم نے تو ان کے گھر یعنی