مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 119 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 119

مکتوبات احمد جلد سوم اُمید قوی ہے کہ ظاہر ہو جائے لیکن یہ جدو جہد کا کام ہے شاید ہفتہ عشرہ اس طرف مشغول اور توجہ کرنی پڑے۔سو توجہ بھی جو سخت محنت پر موقوف ہے ہر ایک کے لئے نہیں ہو سکتی اور ناحق کی تضیع اوقات معصیت میں داخل ہے۔ہاں ! ایسے شخص سے اگر کوئی دینی امداد پہنچ جائے اور وہ کوئی ہد یہ امدادی فی سبیل اللہ داخل کر سکے تو محنت ہو سکتی ہے ورنہ نہیں۔سو اُس ہند و کو آپ سمجھا دیں کہ اگر وہ اپنے نفس میں یہ طاقت پاتا ہے اور حسب حیثیت امداد دین میں خدمت بجالا سکتا ہے تو اُس کے لئے توجہ کر سکتے ہیں۔اُس توجہ میں اگر چہ غالب امید استجابت دعا ہے لیکن اگر نا کا می کے لئے تقدیر مبرم ہے تو پھر مجبوری ہوگی۔زیادہ خیریت۔۲۵ اکتوبر ۱۸۹۰ء والسلام راقم خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور مکتوب نمبر ۳۲ مشفقی مکرمی محبی صاحبزادہ سراج الحق صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ سرفراز نامه سامی صادر ہوا۔عمامہ و عطر آپ کا پہنچا۔خداوند کریم آپ کو اس خدمت یا اخلاص کا اجر نیک عطا فرمائے۔اس ہندو کے بارے میں اطلاع دی جاتی ہے کہ جیسا کہ اس نے خواہش ظاہر کی ہے ویسا کرنے کے واسطے جد و جہد اور دعا و توجہ کی اشد ضرورت ہے اور یہ عاجز اس وقت بسبب بیمار رہنے کے ایک عرصہ تک جد و جہد سے مجبور ہے۔میرا کوئی ایسا اشتہار نہیں ہے جو موافق خیال ہندو مذکور کے ہو یعنی یہ کہ جو کچھ وہ خواہش کرے اس کی خواہش کے مطابق کوئی خرق عادت خدا وند کریم ظاہر فرما دے بلکہ اشتہار یہی ہے کہ جیسا خداوند کریم کو منظور ہو کوئی خرق عادت ظہور میں آئے گا جو انسانی طاقتوں سے باہر ہو۔طلب اسلام میں بدیدن خرق عادت کے اسی خرق عادت کا طالب ہونا جس کو مدعی خود درخواست کرے اور کسی دوسرے امر پر قانع نہ ہو جو خدا وند کریم کی مرضی سے ظاہر ہو، ایک قسم کی ہٹ دھرمی ہے۔اگر اس کو اسلام کی خواہش ہے اور وہ میرے