مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 115
مکتوبات احمد ۱۰۷ جلد سوم مکتوب نمبر ۲۵ از عاجز عائذ بالله الصمد غلام احمد بخدمت اخویم صاحبزادہ سراج الحق سلمه تعالی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ واقعہ وفات آپ کی والدہ ماجدہ سے حزن واند وہ ہوا اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ ۔ خدا تعالیٰ آپ کو صبر بخشے ۔ اس میں کیا شک ہے کہ آپ اولیاء کے قائل ہیں اور حقیقت ولایت کو بدلی اعتقاد مانتے ہیں ۔ عجیب خیال کے وہ لوگ ہیں کہ قائلین کو منکرین قرار دیں اور تکفیر میں مستعجل ہوں ۔ ایک مولوی صاحب نے میری تکفیر کے لئے مکہ معظمہ تک تکلیف کشی کی ۔ کسی کے کافر کہنے سے کب کوئی کافر بن سکتا ہے۔ کا فروہ ہے جو خدا کے نزدیک کا فر ہے۔ جو شخص مسلمان کو کافر کہے درحقیقت وہی خدا تعالیٰ کے نزدیک کافر ٹھہرتا ہے۔ ایسے لوگوں کی باتوں سے مضطرب نہیں ہونا چاہئے ۔ میرے نزدیک مومن کی یہی نشانی ہے کہ نادان لوگ اس کو کافر کہیں ۔ فرعون نے حضرت موسیٰ سے کہا تھا وَفَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِي فَعَلْتَ وَأَنْتَ مِنَ الْكَفِرِينَ لے صرف اس مضمون کے چند کلمے شائع کر دیئے جائیں کہ بھائیو! ہم مسلمان ہیں اور اولیاء کے وجود کے قائل ہیں اور حقیقت ولایت کے معترف ہیں ۔ جو شخص ہم پر الزام لگاتا ہے وہ جھوٹا ہے ۔ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى ۲۵ جنوری ۱۸۹۰ء خاکسار غلام احمد عفی عنہ الشعراء : ٢٠ الحکم نمبر ا اجلد ۲۰ مورخه ۲۱ را پریل ۱۹۱۸ء صفحه ۴