مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 106
مکتوبات احمد ۹۸ جلد سوم مند و می مکر می اخویم سلّمه تعالی مکتوب نمبر11 السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مبلغ پیشہ روپے پہنچ گئے۔آپ اپنی محبت برادرانہ سے اس عاجز کی تائید میں بہت کوشش کر رہے ہیں۔اور خلوص و محبت کے آثار بارش کی طرح آپ کے وجود سے ظہور میں آتے جاتے ہیں۔اللہ جل شانہ آپ کو خوش رکھے۔۱۴ جون ۱۸۸۶ء والسلام خاکسار غلام احمد (نوٹ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام چونکہ شکور خدا کے عبد شکور تھے۔اس لئے اپنے خدام کی ہر خدمت کو نہایت عزت و قدر سے دیکھا کرتے تھے۔معمولی سے معمولی کام بھی کوئی کرتا تو جَزَاكُمُ اللهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ فرماتے اور اس کو قدر وعزت کی نظر سے دیکھتے۔اس چیز نے آپ کے صحابہ میں اخلاص کی ایک عملی روح پیدا کر دی تھی اور ہر ایک صادق چاہتا تھا کہ خدمت کے لئے آگے بڑھے۔صاحبزادہ سراج الحق صاحب اب ہمارے درمیان نہیں۔وہ خود ایک پیرزادہ تھے اور لوگوں سے نذرانہ لیتے اور ایسی فضاء میں ان کی تربیت اور اُٹھان ہوئی تھی کہ خدمت اسلام کے لئے کچھ خرچ کرنے کا موقع نہ تھا لیکن جب خدا تعالیٰ نے انہیں راہ حق دکھایا تو انہوں نے اپنے اخلاص کا ہر رنگ میں ثبوت دیا۔فَجَزَاهُ اللَّهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ (عرفانی کبیر)