مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 103

مکتوبات احمد ۹۵ جلد سوم مکرمی مخدومی اخویم ! مکتوب نمبر ۸ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامه نیز یک دستار ہدیہ آں مخدوم پہنچا۔حقیقت میں یہ عمامہ نہایت عمدہ خوبصورت ہے جو آپ کی دلی محبت کا جوش اس سے مترشح ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو خوش رکھے۔( آمین ) اور اب یہ عاجز شاید ہفتہ عشرہ تک اس جگہ ٹھہرے گا۔زیادہ نہیں۔۹ / مارچ ۱۸۸۶ء والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ از ہوشیار پور ( نوٹ ) حضرت اقدس کا سفر ہوشیار پور ایک تاریخی سفر ہی نہیں بلکہ اس سفر کے ساتھ بہت سے نشانات وابستہ ہیں۔اللہ تعالیٰ کی ایک تحریک خفی کے ماتحت کچھ عرصے کے لئے ضلع گورداسپور کے پہاڑی علاقہ (سو جان پور) کی طرف جا کر عبادت کرنا چاہتے تھے۔لیکن پھر خدا تعالیٰ کی صاف صاف وحی نے آپ کو ہوشیار پور جانے کا ایماء فرمایا اور اس شہر کا نام بتایا۔اس سفر میں تحریر کا ایک خاص کام بھی زیر نظر تھا۔چنانچہ حضور نے مرحوم چوہدری رستم علی خان صاحب کو لکھا تھا کہ حسب ایماء خدا وند کریم بقیہ کام رسالہ کے لئے اس شرط سے سفر کا ارادہ کیا ہے کہ شب و روز تنہائی ہی رہے اور کسی کی ملاقات نہ ہو اور خداوند کریم جل شانہ نے اس شہر کا نام بتا دیا ہے کہ جس میں کچھ مدت بطور خلوت رہنا چاہئے اور وہ شہر ہوشیار پور ہے۔الی آخرہ۔یہ سفر حضرت نے قادیان سے سیدھا ہوشیار پور کو کیا تھا“۔چنانچہ ۱۹ / جنوری ۱۸۸۶ء کو حضور معہ حضرت حافظ حامد علی صاحب و حضرت منشی عبد اللہ صاحب و میاں فتح خاں ( یہ شخص بعد میں مولوی محمد حسین بٹالوی کے اثر میں آگیا ،ضلع ہوشیار پور کا رہنے والا تھا ) روانہ ہوئے اور بروز جمعہ ہوشیار پور پہنچ کر طویلہ شیخ مہر علی صاحب