مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 4 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 4

مکتوبات احمد جلد سوم لہذا مے خواہم کہ بقیہ عمر در گوشہ تنہائی نشینم و دامن از صحبت مردم چینم و بیاد اوسجانه مشغول شوم مگر گزشته را عذرے و مافات را تدار کے شود۔عمر بگذشت و نماند است جز آیا می چند که در یاد کسے صبح کنم شامے چند که دنیا را اساسی محکم نیست و زندگی را اعتبارے نے۔وَ أَيسَ مَنْ خَافَ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ افَةِ غَيْرِهِ - والسلام میریز ( نوٹ :۔اس خط کو غور سے پڑھنے پر عجیب معرفت ہوتی ہے کہ آپ کو آخری الہام جو اپنی وفات کے متعلق ہوا وہ بھی یہی تھا۔مکن تکیه پر عمر نا پائیدار مباش ایمن از بازی روزگار اور آپ نے یا دالہی میں مصروف ہونے کے لئے جس طرح پر والد مکرم سے اجازت چاہی اس میں بھی اسی سے استدلال فرمایا۔) ( ترجمه از مرتب : - ) مخدوم من حضرت والد صاحب سلامت بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ مراسم غلامانہ اور قواعد فدویا نہ بجالاتے ہوئے حضور والا میں معروض ہوں کہ چونکہ ان ایام میں میں برای العین دیکھتا ہوں اور بچشم سر مشاہدہ کر رہا ہوں کہ تمام ممالک اور بلا د میں ہر سال کوئی نہ کوئی وباء آجاتی ہے جو دوستوں کو دوستوں سے اور عزیزوں کو عزیزوں سے جدا کر دیتی ہے اور کسی سال بھی میں یہ نہیں دیکھتا کہ یہ بھڑکتی آگ اور یہ دردناک حوادث اس سال شور قیامت بر پا نہیں کرتے ان حالات کو دیکھتے ہوئے دل دنیا سے سرد ہو چکا ہے اور چہرہ اس کے خوف سے زرد۔اور اکثر شیخ مصلح الدین حمد اخبار بدر نمبر ۳۲ جلد ۸ مورخه ۳ / جون ۱۹۰۹ء صفحه ۲