مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 3 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 3

مکتوبات احمد والد محترم حضرت مرز اغلام مرتضی صاحب کے نام حضرت اقدس کا ایک عجیب مکتوب جلد سوم ذیل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک گرامی قدر مکتوب درج کیا جاتا ہے اس مکتوب کے پڑھنے سے معلوم ہوگا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کس طرح اول عمر ہی سے اس دنیا سے متنفر اور اللہ سے اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے کی فکر میں رہتے تھے۔یہ مکتوب آپ نے اپنے والد ماجد مرزا غلام مرتضی خان صاحب مرحوم کی خدمت میں ایسے وقت میں لکھا تھا جب آپ بد وشباب میں تھے۔یہ مکتوب ہی آپ کی پاکیزہ فطرتی اور مطہر سیرت کا ایک جزو ہے۔(ایڈیٹر بدر ) حضرت والد مخدوم من سلامت ! بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ مراسم غلامانہ وقواعد فدویا نہ بجا آورده معروض حضرۃ والا میکند چونکه در بین ایام برای العین می بینم و بچشم سر مشاہدہ میکنم کہ در ہمہ ممالک و بلاد ہر سال چنان وبائے مے افتد که دوستان را از دوستان و خویشان را از خویشان جدا می کند و هیچ سالے نه بینم که این نائر عظیم و چنین حادثه الیم در آن سال شور قیامت نیفگند۔نظر بر آن دل از دنیا سرد شده است و رو از خوف جان زرد و اکثر این دو مصرعه شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی بیاد مے آئند واشک حسرت ریخته میشود۔مگن تکیه بر عمر نا پائیدار مباش ایمن از بازی روزگار و نیز این دو مصرعه ثانی از دیوان فرخ قادیانی نمک پاش جراحت دل میشود۔بدنیائے دوں دل مبند اے جوان که وقت اجل میرسد ناگهان