مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 90
مکتوب نمبر۵۶ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنائت نامہ پہنچا۔موجب ممنونی ہوا۔نہایت خوشی کی بات ہے اگر اخویم مکرم عبدالواحد صاحب معہ سب عزیزوں کے تشریف لاویں۔اگر دو تین روز پہلے اطلاع دی جاوے تو کوئی آدمی واقف بٹالہ کے سٹیشن پر بھیج دیا جائے۔میرے گھر کے لوگ تاکید سے آپ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ آپ ضرور صغریٰ کو ساتھ بھیج دیں۔اس صورت میں ان کے لئے تبدیلی آب و ہوا بھی ہو جائے گی۔انہوں نے بہت مرتبہ کہا ہے اور تاکید سے کہا ہے۔اس لئے تکلیف دیتا ہوں۔اگر مناسب سمجھیں تو منظور محمد کو ساتھ بھیج دیں۔اس تقریب سے وہ بھی ساتھ آ جائے گی اور جو دوا آپ نے ان کیلئے ارسال فرمائی ہے۔اس کے کھانے کی ترکیب کوئی نہیں لکھی۔مفصل اطلاع بخشیں۔اور یہ دوا کشتہ کی قسم ہے یا کوئی اور دوا ہے۔اور ان ایام میں اس کو کھا سکتے ہیں یا نہیں۔قبض از حد ہے کوئی قابض یا حار دوا موافق نہیں ہوتی۔نرم اور معقول درجہ کی دوا جو قابض نہ ہو، موافق آتی ہے۔اخویم مولوی غلام علی صاحب کی طبیعت کا بہت خیال ہے اب کی دفعہ آپ نے ان کی نسبت کچھ نہیں لکھا۔خدا تعالیٰ ان کو شفا بخشے۔اگر جموں میں ہوں تو میری طرف سے السلام علیکم۔دعا کی جاتی ہے خدا تعالیٰ قبول فرماوے۔خاکسار غلام احمد نوٹ: اس خط پر تاریخ موجود نہیں۔مگر مولوی غلام علی صاحب کی علالت کے ذکر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خط ۱۸۸۹ء کا ہے۔(عرفانی)