مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 89 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 89

مکتوبات احمد ۸۹ جلد دوم مکتوب نمبر ۵۷ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ کل عنایت نامہ پہنچا۔ مبلغ سو روپیہ پہلے اس سے پہنچ گیا تھا۔ جزاکم اللہ خیراً۔ اس عاجز کا دماغ نہایت ضعیف ہو گیا ہے ۔ کوئی محنت کا کام نہیں ہو سکتا ۔ ایک خط کا لکھنا مشکل ہے۔ اللہ جل شانہ غیب سے قوت عطا فرما دے۔ مولوی محمد حسین بہت دور جا پڑے ہیں ۔ جو شخص اس دنیا سے دل نہ لگاوے اور اپنی حالت پر نظر کرے اور اپنے قصوروں کا تدارک چاہے خدا تعالیٰ اس کو بصیرت بخش دیتا ہے ۔ ورنہ بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ کا مصداق ہو جاتا ہے ۔ مولوی محمد حسین ایک مقام اور ایک رائے پر ٹھہر گئے ہیں اور وہ مقام اور وہ رائے انہیں پسند آ گیا ہے۔ لیکن میں سچ کہتا ہوں اگر اُسی پر ان کی موت ہو تو انہیں اس طبقہ میں جانا پڑے گا جس میں محجو بین جایا کرتے ہیں ۔ خدا تعالیٰ صدق اور صادقین کی طلب ان میں پیدا کرے اور زنگ موجودہ سے انہیں نجات دے۔ ورنہ ان کی خطرناک حالت ہے ۔ منقولی طور پر معلومات کی وسعت یا معقولی طور پر کچھ قیل و قال کا مادہ ایک ملحد میں بھی پیدا ہو سکتا ہے، جائے فخر نہیں ۔ اور نہ اس سے وہ قدوس خوش ہو سکتا ہے جس کی دلوں پر نظر ہے۔ سچائی اور راستبازی اور انقطاع الی اللہ میں انسان کی نجات ہے۔ ورنہ علم بھی ہو تو کیا فائدہ؟ چار پائے بُر د کتا بے چند ۔ محمد حسین کی حالت نہایت نازک ہے اور انہیں اس کی خبر نہیں والسلام علی من اتبع الهدی ۔ ر دسمبر ۱۸۸۹ء خاکسار غلام احمد از قادیان ☆۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ المطففين: ۱۵ الحکم ۱۷ اگست ۱۹۰۳ ء صفحه ۳