مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 84 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 84

مکتوب نمبر۵۱ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ از عاجز عائذ باللہ الصمد غلام احمد۔بخدمت اخویم مکرم مولوی حکیم نورالدین صاحب۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔عنایت نامہ پہنچا۔موجب خوشی و خرمی ہوا۔خدا تعالیٰ آپ کو بہت جلد لاوے اور خیر و عافیت سے پہنچا دے۔آمین ثم آمین۔اس عاجز کے گھر کے لوگوں کی طرف سے یہ درخواست بصد آرزو ہے کہ جس وقت آپ کے گھر کے لوگ لودہیانہ سے آپ کے ساتھ آویں تو دو تین روز تک اس جگہ قادیان میں ان کے پاس ٹھہر کر جاویں۔اس عاجز کی دانست میںکچھ مضائقہ نہیں بلکہ انشاء اللہ موجب خیرو بہتری ہے۔صاحبزادہ افتخار احمد صاحب اور ان کے تمام اَعزہ و متعلقین کے دل پر تقلید حنفی کا بڑا رعب طاری ہے اور مدت دراز کی عادت جو طبیعت ثانی کا حکم پیدا کر لیتی ہے اگر خدا تعالیٰ چاہے تو تدریجاً دور ہو سکتی ہے۔یکدفعہ تبدیلی گویا انقلاب ماہیت میں داخل ہے۔اس موقعہ میں تمام تر حکمت، عملی حلم و رفق و درگذر و زیادت محبت و مودّت و غائبانہ دعا میں ہے۔فَقُلْ لَّہٗ قَوْلاً لَّـیِّنًا لَّـعَلَّہٗ یَتَذَکَرُ اَوْ یَخْشٰی۔میرے نزدیک یہ قرین مصلحت معلوم ہوتا ہے کہ اوّل آپ جموں میں پہنچنے کے بعد براہِ راست لدھیانہ میں تشریف لے جائیں۔پھر اپنے گھر کے لوگوں کو ساتھ لے کر دو تین روز کے لئے قادیان میں ٹھہر جائیں۔میرے گھر کے لوگوں کے خیالات موحدین کے ہیں۔اوّل تو خیالات میں خشک موحدین کی طرح حد سے زیادہ غلو تھا مگر اب میں نے کوشش کی ہے کہ اس ناجائز غلو کو کچھ گھٹا دیا جائے۔چنانچہ میرے خیال میں وہ کسی قدر گھٹ بھی گیا ہے۔میرے گھر کے لوگوں نے ذکر کیا تھا کہ انہوں نے یعنی آپ کے گھر کے لوگوں نے لودھیانہ میں کسی تقریب سے یہ ذکر کیا تھا کہ اب تک تو مولوی صاحب کا حنفیوں کا طریق معلوم ہوتا ہے۔مگر میں ڈرتی ہوں کہ کہیں وہابی نہ ہوں اور اب تک تو میں نے وہابیوں کی بات ان میں کوئی دیکھی نہیں۔انہوں نے اس کے جواب میں مناسب نہ سمجھا کہ اپنی کچھ رائے ظاہر کریں… چونکہ