مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 81 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 81

مکتوبات احمد M جلد دوم مکتوب نمبر ۵۰ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلمۂ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کل کی ڈاک میں عنایت نامہ پہنچا۔ جو کچھ پر چہ تکمیل تبلیغ میں تاریخ لکھی گئی ہے وہ فقط انتظامی امر ہے تا ایسی تقریب میں اگر ممکن ہو تو بعض اخوان مومنین کا بعض سے تعارف ہو جاوے کوئی ضروری امر نہیں ہے۔ آپ کے لئے اجازت ہے کہ جب فرصت ہوا اور کسی طرح کا ہرج نہ ہو تو اس رسم کے پورا کرنے کیلئے تشریف لے آویں بلکہ تقریب شادی پر جو آپ تشریف لاویں گے وہ نہایت عمدہ موقع سعها - میرے ہے اور شرائط پر پابند ہونا باعتبارا پابند ہونا باعتبار استطاعت ہے۔ لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔ دوسرے خط کے جواب سے جلد مطلع فرماویں تا لدھیانہ میں اطلاع دی جاوے۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ شاید آپ بماہ مارچ کشمیر کی طرف روانہ ہوں ۔ پس اگر یہی ضرورت ہو تو بماہ فروری کا روبار شادی بخیر و عافیت اہتمام پذیر ہونا چاہئے۔ منشی عبدالحق صاحب و با بو الہی بخش صاحب لاہور سے تشریف لائے تھے۔ منشی عبد الحق صاحب نے تقریر کی تھی کہ رو تکذیب کو عام پسند بنانے کے لئے یہ بات نہایت ضروری ہے کہ دیباچہ کتاب میں کھول کر لکھا جائے کہ ہمارا ایمان تو خدا تعالیٰ کی قدرتوں پر ایسا قوی اور وسیع ہے کہ جس طرح اہل سنت و الجماعت تسلیم کرتے ہیں مگر بعض نادر طور کے جواب صرف مخاطبین کی تنگ دلی اور قلت معرفت کے لحاظ سے ان کے مذاق کے موافق لکھے گئے ہیں تا انہیں معلوم ہو کہ قرآن شریف پر اعتراض کرنے سے کسی معقولی اور منقولی کو مجال نہیں ۔ اس عاجز کی دانست میں بھی ایسا لکھنا نہایت ضروری ہے تا عوام الناس فتنہ سے بچ جائیں ۔ زیادہ خیریت ہے۔ ۲۰ رفروری ۱۸۸۹ء ا البقرة: ۲۸۷ الحکم ۷ ارجولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۱ والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان