مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 79
مکتوبات احمد ۷۹ کا تھا اور اس کے استعدادی کمالات دوسرے عالم میں نشو و نما پائیں گے ۔ ونما پائیں گے۔ جلد دوم قصیر العمر ہونا اس کے علو جو ہر کے لئے مضر نہیں بلکہ اس کا پاک آنا اور پاک جانا اور گناہ سے بکلی معصوم رہنا اس کے شرف پر ایک بدیہی دلیل ہے۔ اور جیسا کہ الہام نے بتلایا تھا کہ خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے اور وہ گناہ سے پاک ہے۔ ایسا ہی وہ مہمان کی طرح چند روز رہ کر پاکی اور معصومیت کی حالت میں اٹھایا گیا اور موت کے وقت بطور خارق عادت اس کا چہرہ چمکا اور اپنے ہاتھ سے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور سو گیا۔ یہی اس کی موت تھی جو معمولی موتوں سے ڈور اور نہایت پاک وصاف تھی ۔ اس جگہ یہ بھی تحریر کے لائق ہے کہ اس کی موت سے پہلے اللہ جل شانہ نے اس عاجز کو پوری بصیرت بخش دی تھی کہ یہ لڑکا اپنا کام کر چکا ہے اور اب فوت ہو جائے گا۔ اسی وجہ سے اس کی موت نے اس عاجز کی قوت ایمانی کو بہت ترقی دی اور آگے قدم بڑھایا۔ اس موت کی تقریب پر بعض مسلمانوں کی نسبت یہ الہام ہوا ۔ اَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ قَالُوا تَاللَّهِ تَفْتَوا تَذْكُرُ يُوسُفَ حَتَّى تَكُونَ حَرَضًا أَوْتَكُونَ مِنَ الْهَا لِكِينَ - شَاهَتِ الْوُجُوهُ فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتَّى حِينٍ - إِنَّ الصَّابِرِينَ يُوَفَّى أَجْرُهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ ہے اب خدا تعالیٰ نے ان آیات میں صاف بتلا دیا کہ بشیر کی موت لوگوں کی آزمائش کے لئے ایک ضروری امر تھا۔ جو کچے تھے وہ مصلح موعود کے ملنے سے نا امید ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ تو اسی طرح اس یوسف کی باتیں ہی کرتا رہے گا یہاں تک کہ قریب مرگ ہو جائے گا یا مر جائے گا ۔ سو خدا تعالیٰ نے مجھے فرمایا کہ ایسوں سے اپنا منہ پھیر لے جب تک وہ وقت پہنچ جائے ۔ اور بشیر کی موت پر جو ثابت قدم رہے ان کے لئے بے اندازہ اجر کا وعدہ ہوا ۔ یہ خدا تعالیٰ کے کام ہیں اور کوتاہ بینوں کی نظر میں حیرت ناک ۔ کو تہ بین لوگ یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ جس حالت میں اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں یہ پیشگوئی شائع کی گئی تھی کہ بعض لڑکے کم عمری میں فوت ہوں گے ، تو کیا یہ ضرور نہ تھا کہ وہ پیشگوئی پوری ہوتی ۔ فی الحقیقت بشیر کی خورد سالی کی موت نے ایک پیشگوئی کو پورا کیا جو اس کی موت سے تین سال پہلے کی گئی تھی ۔ سو دانا کے لئے زیادہ معرفت کا محل ہے نہ انکار اور حیرت کا۔ ا تذکرہ صفحہ ۱۳۰ ۔ ایڈیشن چہارم