مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 74
وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا۔کَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآئِ فِیْہِ ظُلُمَاتٌ وَّرَعْدٌ وَّبَرْقٌ ۱؎ پس اس الہام میں صاف فرما دیا کہ وہ اَبر رحمت ہے مگر اس میں سخت تاریکی ہے۔اس تاریکی سے وہی آزمائش کی تاریکی مراد ہے جو لوگوںکو اس کی موت سے پیش آئی اور ایسے سخت ابتلاء میں پڑ گئے جو ظلمات کی طرح تھا۔یہ سچ ہے اور بالکل سچ کہ یہ عاجز اجتہادی غلطی سے اس خیال میں پڑ گیا تھا کہ غالباً یہ لڑکا مصلح موعود ہو گا جس کی صفائی باطنی اور روشنی استعداد اور تطہر اور پاکیزگی کی اس قدر تعریف کی گئی ہے مگر اجتہادی غلطی کوئی ایسا امر نہیں ہے کہ نفس الہام پر کوئی دھبہ لگا سکے۔ایسی غلطیاںاپنے مکاشفات کے سمجھنے میں بعض نبیو ں سے بھی ہوتی رہی ہیں۔بایں ہمہ جب لوگ پوچھتے رہے کہ کیا یہ لڑکا مصلح موعود ہے تو ان کو یہی جواب دیاگیا کہ ہنوزیہ امر قیاسی ہے۔چونکہ خداوند تعالیٰ نے ارادہ کیا تھا کہ لوگوں کو ابتلائے عظیم میں ڈالے اور سچوں اور کچوں میں فرق کر کے دکھلا دے۔اسی وجہ سے یہ عاجز کہ ایک ضعیف بشر ہے اس ارادہ کا مغلوب ہو گیا اور یوں ہوا کہ اس لڑکے کی پیدائش کے بعد اس کی طہارت باطنی اور صفائی استعد اد کی تعریفیں الہام میں بیان کی گئیں اور پاک اور نُوْرُ اللّٰہِ اور یَدُ اللّٰہِ اور مقدس اور بشیر اور خدا باماست اس کانا م رکھا گیا۔سو ان الہامات نے یہ خیال پید اکر دیا کہ غالباً یہ وہی مصلح موعود ہوگا مگر پیچھے سے کھل گیا کہ مصلح موعود نہ تھا۔مگر مصلح موعود کابشیر تھا اور روشن فطرتی اور کمالات استعدادیہ میں بہت بڑھا ہوا تھا اور وہ ہزاروں مومنوں کے لئے جو اس کی موت کے غم میں شریک ہوئے بطور فرط کے ہوگا۔پس یہ نہیں کہ وہ بے فائدہ آیا بلکہ خدا تعالیٰ نے ظاہر کر دیا کہ اس کی موت جو عظیم الشان ابتلاء کاایک بھاری حملہ تھا۔وہ ان کو جو اس حملہ کی برداشت کر گئے عنقریب ایک تازہ زندگی بخشے گی اور اپنی حالت میں وہ ترقی کرجائیں گے۔یہ بشیر درحقیقت ایک شفیع کی طرح پیدا ہوااور اس کی موت ان سچے مومنوں کے گناہوں کا کفّارہ ہے جن کو اس کے مرنے پر محض للہ غم ہوا۔یہاں تک کہ بعض نے کہا کہ اگر ہماری ساری اولاد مر جاتی اور بشیر جیتا رہتا تو ہمیںکچھ بھی غم نہ تھا۔پس کیا ایسے لوگوں کا کفارہ نہ ہوگا؟ کیا ایسوں کے لئے وہ پاک معصوم شفیع نہیں ٹھہرے گا؟ ضرور ٹھہرے گا۔اور اس کی موت نے ایسے مومنوں کو زندگی بخشی ہے۔غرض وہ مومنوںاور ثابت قدموں کے لئے جو اس کی موت کے غم میں محض للہ شریک ہوئے ایک ربّانی مبشر تھا۔اللہ جل شانہ کے انزال رحمت اور روحانی برکت کے بخشنے کے لئے کئی طریقے ہیں۔