مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 66
مکتوب نمبر۴۱ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْم مخدومی حضرت مولوی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بٹالہ میں عنایت نامہ آں مخدوم مجھ کو ملا۔اللہ جلشانہٗ آپ کو سلامت رکھے اور بخیرو عافیت واپس لاوے۔آپ کی طرف بہت خیال رہتا ہے۔میاں محمد عمر کے معاملہ میں بہت تردّد دامنگیر ہے۔خدا تعالیٰ احسن تدبیر سے اس امر مکروہ کو درمیان سے اُٹھاوے۔بشیر احمد کی طبیعت اب کسی قدر روبصحت ہے مگر میرا ارادہ یہی ہے کہ اخیر رمضان تک اسی جگہ بٹالہ میں رہوں کہ دوا وغیرہ کے ملنے کی اس جگہ آسانی ہے اور کسی قدر ڈاکٹر کا علاج بھی شروع ہے۔معلوم نہیں کہ حکیم فضل دین صاحب کب بارادہ لودہانہ تشریف لاویں گے۔بہرحال اب مناسب ہے کہ بعد رمضان شریف لاویں۔آپ براہ مہربانی جلد جلد اپنے حالات خیریت آیات سے مطلع فرماتے رہیں یہ عاجز بمقام بٹالہ نبی بخش ذیلدار کے مکان پر اُترا ہوا ہے۔والسلام از بٹالہ خاکسار ۲۸؍ مئی ۱۸۸۸ء غلام احمد مکتوب نمبر۴۲ ژ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اگرچہ آنمکرم کی طبیعت میں عجزونیاز اور انکسار کامل طور پر ہے اور یہی ضروری شرط عبودیت کی ہے لیکن بحکم آیۃ کریمہ ۱؎ نعماء الٰہی کا اظہار بھی از بس ضروری ہے۔اللہ جلّشانہٗ نے آپ کو علم دین بخشا ہے۔عقل سلیم عطا کی ہے۔انشراح صدر جو ایک خاص نعمت ہے