مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 67
عطا فرمایا ہے، اپنی طرف توجہ دی ہے۔یہ تمام نعمتیں شکر کے لائق ہیں۔عنایت نامہ پہنچا۔معلوم نہیں۔کب تک آپ جموں میں تشریف لانے والے ہیں۔اللہ جلّشانہٗ آپ کو بخیرو عافیت اپنے سایہ ٔرحمت میں رکھے اور سفر اور حضر میں اس کا فضل و احسان آپ کے شاملِ حال رہے۔اس جگہ سب طرح سے خیریت ہے۔٭ والسلام ۲۲؍ جون ۱۸۸۸ء خاکسار غلام احمد عفی عنہ ٭…٭…٭ مکتوب نمبر۴۳ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی مولوی حکیم نورالدین صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الحمدللّٰہ والمنۃکہ کل کے خط سے بخیر و عافیت آپ کی واپس تشریف آوری کی خوشخبری معلوم ہوئی۔بشیر احمد عرصہ تین ماہ تک برابر بیمار رہا۔تین چار دفعہ ایسی حالت نازک تک پہنچ گیا ہے جس سے معلوم ہوتا تھا کہ شاید دو چار دم باقی ہیں۔مگر عجیب قدرت قادر ہے کہ ان سخت خطرناک حالتوں تک پہنچا کر پھر ان سے رہائی بخشتا رہا ہے۔اب بھی کسی قدر علالت باقی ہے۔مگر بفضلہ تعالیٰ آثار خطرناک نہیں ہیں۔بے شک ایسے اوقات بڑے ابتلا کے وقت ہوتے ہیں اور ایسے وقتوں کی دعا بھی عجیب قسم کی دعاہوتی ہے۔سو الحمد للّٰہ والمنۃ کہ آپ ایسے وقتوں میں یاد آ جاتے ہیں۔٭٭ والسلام از قادیان خاکسار ۲؍ جولائی ۱۸۸۸ء غلام احمد