مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 62 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 62

نہیں لکھا کیونکہ ابھی تک آپ کی طرف سے قطعی اور یک طرفہ رائے مجھ کو نہیں ملی اس لئے مکلّف ہوں کہ درمیانی خیالات کا جلد تصفیہ کر کے اگر جدید تلاش کی ضرورت پیش آوے تو مجھے اطلاع بخشیں۔اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی لکھا تھا آپ اپنے مصارف کی نسبت ہوشیار ہو جائیں کہ انہیں اموال سے قوام معیشت ہے اور دینی ضروریات کے وقت بھی موجب ثواب عظیم ہو جاتے ہیں سو جیسا کہ آپ نے عہد کر لیا ہے کسی حالت میں ثلث سے زیادہ خرچ نہ کریں۔انگریزی خوانوں کی نسبت جو آپ نے لکھا ہے، یہ نہایت عمدہ صلاح ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کی اس نیت عالیہ میں برکت ڈالے۔نبیوں کے پاس دو ہتھیار تھے جن کے ذریعہ سے وہ فتح یاب ہوئے۔ایک ظاہری طور پر قول موجّہ جو ہر یک مخالف کو ملزم و ساکت کرتا تھا۔دوسری باطنی توجہ جو نورانی اثر دلوں پر ڈالتی تھی۔اوائل میں جو نبیوں کے وعظوں میں کم اثر ہوا بلکہ طرح طرح کے دُکھ اُٹھانے پڑے اور طرح طرح کی نالائق تہمتیں ان کی شان میں کی گئیں تو اس کا یہ باعث ہے کہ اوّل اوّل میں ان کی ہمت قول موجّہ کے پھیلانے اور مخالفوں کے ساکت کرنے میں مصروف رہی۔پھر جب اس طریق پر کوئی فائدہ مترتب نہ ہوا اور دل ٹوٹ گیا۔بقول حضرت سعدیؒ بہ ہمت نمایند مردی رجال عقدِ ہمت اور توجہ سے کام لیا گیا۔یہ عقد ہمت اور توجہ شمشیر تیز سے زیادہ تر اثر رکھتی ہے۔میری رائے میں نبیوں کی تمام کامیابی کا بڑا بھارا موجب یہی توجہ باطنی تھی اور نیز یہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ حکم خواتیم پر ہے۔خدا تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے کہ ۱؎ سنت اللہ اسی طور پر جاری ہے کہ صادق لوگ اپنے انجام سے شناخت کئے جاتے ہیں۔یہ عاجز خوب جانتا ہے کہ جس کام کو میں نے اُٹھایا ہے ابھی وہ لوگوں پر بہت مشتبہ ہے اور شاید اس بات میں کچھ مبالغہ نہ ہو کہ ہنوز ایسی حالت ہے کہ بجائے فائدہ کے آثار و علامات نقصان کے نظر آتے ہیں۔یعنی بجائے ہدایت کے ضلالت و بدظنی پھیل گئی ہے۔مگر جب میں ایک طرف آیات قرآنی پڑھتا ہوں کہ کیونکر اوائل میں نبیوں پر ایسے سخت زلازل آئے کہ مدتوں تک کوئی صورت کامیابی کی دکھلائی نہ دی اور پھر انجام کار نسیم نصرت الٰہی کا چلنا شروع ہوا اور دوسری طرف مواعید صادقہ حضرت احدیت سے بشارتیں