مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 61 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 61

مکتوب نمبر ۳۸ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ عین انتظار میں پہنچا۔ابھی وہ خط میں نے نہیں کھولا تھا کہ بابو الٰہی بخش صاحب کے کارڈ کے پڑھنے سے کہ جو ساتھ ہی اسی ڈاک میں آیا تھا۔نہایت تشویش ہوئی کیونکہ اس میں لکھا تھا کہ آپ لاہور میں علاج کروانے کیلئے تشریف لے گئے تھے اور ڈاکٹروں نے کہا کہ کم از کم پندرہ دن تک سب ڈاکٹر مل کر معائنہ کریں تو حقیقت مرض معلوم ہو۔مگر آپ کے خط کے پڑھنے سے کسی قدر رفع اضطراب ہوا مگر تا ہم تردّد باقی ہے کہ مرض تو بکلّی رفع ہو گئی تھی صرف ضعف باقی تھا۔پھر کس لئے ڈاکٹروں کی طرف التجا کی گئی۔شاید بعض ضعف وغیرہ کے لحاظ سے بطور دور اندیشی مناسب سمجھا گیا ہو۔میری دانست میں جہاںتک ممکن ہے آپ زیادہ ہم و غم سے پرہیز کریں کہ اس سے ضعف بڑھتا ہے اور نہایت سرور بخشنے والی یہ آیت مبارکہ ہے ۔۱؎ میرے نزدیک یہ امر نہایت ضروری ہے کہ آپ نکاح ثانی کے امر کو سرسری نگاہ سے نہ دیکھیں بلکہ اس کو کسل و حزن کے دور کرنے کے لئے ضروری خیال کریں اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں سے امید ہے کہ آپ کو نکاح ثانی سے اولاد صالح بخشے۔میرا اس طرف زیادہ خیال نہیں ہے کہ کوئی اہلیہ پڑھی ہوئی ملے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر مرد ہو یا عورت مگر پاکیزہ ذہن اور فطرت سے عمدہ استعداد رکھتا ہو تو اُمیّت اس کے لئے کوئی بڑا سدِّراہ نہیں ہے۔جلدی صحبت سے ضروریات دین و دنیا سے خبردار ہو سکتا ہے۔ضروری یہ امر ہے کہ عفیفہ ہو اور حسن ظاہری بھی رکھتی ہو، تا اس سے موافقت و محبت پیدا ہو جاوے۔آپ اس محل زیر نظر میں اس شرط کی اچھی طرح تفتیش کرلیں۔اگر حسب دلخواہ نکل آوے تو الحمدللہ۔ورنہ دوسرے مواضع میں تمام تر جدوجہد سے تلاش کرنا شروع کیا جائے۔بندہ کی طرف سے صرف کوشش ہے اور مطلوب کو میسر کر دینا قادر مطلق کا کام ہے۔بہرحال اس عالَمِ اسباب میں جدوجہد پر نیک ثمرات مل جاتے ہیں۔میں نے اب تک کسی دوست کی طرف اس تلاش کیلئے