مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 654
مکتوبات احمد ۶۵۴ خانه خدا تنکے تنکے ہوا آشیاں تیرا ایک جھونکے میں آ آپناہ ہوں میں گل پژمردہ چمن ہوں مگر رونق خانہ صبا ہوں میں گل شاداب باغ احمد ہوں رونق ہوں میں کارواں نکل گیا آگے مثل آوازہ درا ہوں میں مارا جائے گا تو جو کہتا ہے ترا کارواں سے نکل گیا ہوں میں تا کہ بے خوف موت سے ہوں مجھ میں آ کارواں سرا ہوں میں سے دست واعظ سے آج بن کے نماز کس ادا سے قضاء ہوا ہوں میں یہ یہ اور ہے کوئی قضاء کی نماز نہ قضاء ہو کبھی کسی اس کو ہرگز نہ مانتا ہوں میں اس غرض سے کھڑا ہوا ہوں میں سے ہر روز مجھ سے بیزار ہے دل زاہد دیدہ حور کی حیا ہوں میں مومنوں نے ہے مجھ کو پہچانا رند کی آنکھ سے چھپا ہوں میں پاس میرے کب آسکے اوباش دیده حور کی حیا ہوں میں جلد دوم