مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 652
مکتوبات احمد ۶۵۲ جلد دوم حضرت چوہدری رستم علی صاحب رضی اللہ عنہ کا کلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے بعض مکتوبات میں چوہدری صاحب مرحوم و مغفور کے اشعار کا ذکر فرمایا ہے اور اسے بہت پسند کیا ہے ۔ بلکہ ایک موقع پر آپ نے فرمایا۔ کہ ان کو جمع کرتے جاویں۔ چوہدری صاحب مرحوم کے کلام کو جمع کرنا آسان کام نہیں ۔ بیس برس کے قریب ان کی وفات پر گزرتا ہے ۔ تاہم میں اپنی کوششوں کو زندگی بھر چھوڑ نہ دوں گا ۔ محض اس لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ خواہش پوری ہو جاوے جو آپ نے اس وقت ظاہر فرمائی تھی ۔ میں اگر کامیاب نہ ہوا تب بھی اس نیت کے لئے یقیناً ماجور ہوں گا ۔ اب جبکہ مکتوبات کے اس مجموعہ کو میں ختم کر چکا ہوں ۔ مناسب سمجھتا ہوں کہ حضرت چو ہدری صاحب مرحوم کے کلام کا کچھ نمونہ یہاں دے دوں ۔ جو میں اس وقت تک جمع کر چکا ہوں ۔ آپ کے کلام کے اندراج کے لئے بہترین موقعہ اور مقام آپ کے سوانح ۔ سوانح حیات کا ایک باب ہے۔ مگر میں نہیں جانتا کہ یہ توفیق کسے ملے گی ۔ میں نے پسند کیا کہ اسے کسی غیر معلوم وقت تک ملتوی کرنے کی بجائے بہتر ہے کہ کچھ نمونہ حضرت چوہدری صاحب مرحوم کے کلام کا یہاں دے دوں اور اس طرح پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس ارشاد کی کسی قدر تک تعمیل کردوں ۔ جو آپ نے چوہدری صاحب کو اس کے جمع رکھنے اور طبع کرا دینے کے متعلق فرمایا تھا ۔ حضرت چوہدری صاحب مرحوم کے کلام پر میں کسی شاعرانہ تنقید کی نہ قابلیت رکھتا ہوں اور نہ اس کی ضرورت سمجھتا ہوں ۔ بلکہ میں تو اسے کلام المحبوب محبوب الکلام سمجھتا ہوں ۔ مجھ کو ان سے خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں ہو کر محبت تھی اور ان کی ادا پسند تھی ۔ ان کے کلام کی داد جب خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام دے چکے ہیں تو اس سے بڑھ کر ان کی سعادت کیا ہوگی ۔ میں چوہدری صاحب مرحوم کے کلام کے انتخاب میں اپنے نقطۂ خیال کو مد نظر رکھتا ہوں اور یہ بطور نمونہ ہے ۔ ہے۔