مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 646 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 646

مکتوبات احمد ۶۴۶ جلد دوم بذریعہ ریل بھیج دیں اور ریل کے کرایہ کو دیکھ لیں کہ زیادہ نہ ہو ۔ کیونکہ ایک مرتبہ دہلی سے ایک پالکی منگوائی گئی تھی اور غلطی سے خیال نہ کیا گیا۔ آخر ریل والوں نے پچاس روپیہ اس کا کرایہ لیا۔ باقی سب خیریت ہے۔ طاعون سے اس طرف شور قیامت بپا ہے ۔ دن کو آدمی اچھا ہوتا ہے اور رات کو موت کی خبر آتی ہے۔ ۲۹ اپریل ۱۹۰۲ء والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ مکتوب نمبر ۲۷۶ ملفوف بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محبی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمۂ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔ چونکہ اس جگہ بنائی کا کام مشکل ہے ۔ ہر طرف طاعون کی بیماری ہے ۔ کوئی آدمی ہاتھ نہیں آئے گا۔ اس لئے بہتر ہے کہ اگر چہ سات روپیہ تک کرایہ کی زیادتی ہو۔ تو کچھ مضائقہ نہیں ۔ وہیں سے تیار ہو کر آنی چاہئیں ۔ لیکن اگر کرایہ زیادہ مثلاً بیس پچیس روپیہ ہو تو پھر صرف سامان پلنگوں کا بھیج دیا جاوے ۔ ایک پلنگ نواڑ کا ہوا اور دو عمدہ بار یک سن کی سوتری کے ۔ غرض اس جگہ پلنگوں کے بننے کی بڑی دقت پیش آئے گی ۔ ایک طرف زراعت کاٹنے کے دن ہیں اور ایک طرف طاعون سے قیامت برپا ہے۔ لوگوں کو مردے دفن کرنے کے لئے آدمی نہیں ملتے ۔ عجیب حیرانی میں لوگ گرفتار ہیں ۔ جہاں تک جلد ممکن ہو جلد تر روا نہ فرماویں۔ ۶ رمتی ۱۹۰۲ء والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ