مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 639
مکتوبات احمد ۶۳۹ مکتوب نمبر ۲۷۱ ملفوف بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمه تعالی ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ جلد دوم پہلا خط میں نے آم پہنچنے سے پہلے لکھا تھا ۔ اب اس وقت جو وقت عصر ہے ۔ آم آئے اور کھولے گئے تو سب کے سب گندے اور سڑے ہوئے نکلے اور جو چند بصورت بیداغ معلوم ہوئے ان کا مزہ بھی تلخ رسوت کی طرح ہو گیا تھا۔ غرض سب پھینک دینے کے لائق ہیں ۔ مجھے افسوس ہے کہ آپ نے اس قدر تکلیف اٹھائی اور خرچ کیا اور ضائع ہوا۔ مگر پھر بھی ضائع نہیں ہوا۔ کیونکہ آپ کو بہر حال ثواب ہو گیا ۔ اب یہ خط اس لئے دوبارہ لکھتا ہوں کہ آپ دوبارہ خرچ سے بچے رہیں ۔ اگر آپ کا دوبارہ بھیجنے کا ارادہ ہو تو سر ولی کا آم جو سبز اور نیم خام اور سخت ہو بھیجیں ۔ یہ آم ہرگز نہ بھیجیں ۔ زیادہ خیریت ہے ۔ یکم جولائی ۱۸۹۹ء والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ خط اس غرض سے رجسٹری کرا کر بھیجا گیا ہے کہ تا تسلی ہو کہ پہنچ گیا ہے ۔ ایسا نہ ہو کہ آپ ایسے ہی آم بھیج دیں اور ناحق اسراف ہو ۔ بجز اس قسم کے جس کو سرولی کہتے ہیں اور کوئی قسم روانہ نہ فرماویں اور وہ بھی اس شرط سے کہ آم سبز اور نیم خام ہوں ۔ تاکسی طرح ایسی شدت گرمی میں پہنچ سکیں ۔ والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ