مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 637
اسی درد ناک حالت میں مَیں نے یہ خط لکھا ہے۔تا آپ کو اطلاع دے دوں۔بباعث شدت درد آنکھ زیادہ لکھنے کی طاقت نہیں۔والسلام ۲۵؍ جنوری ۱۸۹۹ء خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ مکتوب نمبر ۲۶۵ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔عنایت نامہ پہنچا۔آپ کو خبر پہنچ گئی ہو گی کہ پہلی سب کارروائی کا لعدم ہو چکی ہے اور ا ب نئے سرے نوٹس جاری ہو گا۔تاریخ مقدمہ ۱۴؍ فروری ۱۸۹۹ء قرار پائی ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ دفتر انگریزی کے کلارک پیشگوئی بابت آتھم اور پیشگوئی بابت لیکھرام اور پیشگوئی حال کا ترجمہ کر کے پیش کریں۔معلوم ہوتا ہے کہ نیت بخیر نہیں ہے۔محمد حسین کو غالباًبری کر دیا ہے اور اس گروہ کے لوگ یہی مشہور کرتے ہیں اور اس کی نسبت نوٹس بھیجنے کی کچھ بھی تیاری نہیں۔وہ لوگ بہت خوش ہیں۔اس حاکم نے ایک ٹیڑھی لکیر اختیار کی ہے کہ قانون سے اس کا کچھ تعلق نہیں۔محمد بخش ڈپٹی انسپکٹر بڑی شوخی اور بد زبانی سے ظاہر کر رہا ہے اور علانیہ ہر ایک کے پاس کہتا ہے کہ میں ضمانت کرائوں گا۔سزا دلائوں گا اور ظاہراً یہ بات سچ معلوم ہوتی ہے۔کیونکہ یہ مجسٹریٹ اس کی بڑی عزت کرتا ہے اور بڑ ا کچھ اعتبار ہے۔ہر ایک دفعہ میں دیکھتا رہا ہوں کہ میری نسبت اس کی نیت نیک نہیں ہے۔لیمار چنڈ بھی بگڑ ا ہوا ہے۔جمعہ کی رات میںنے خواب دیکھا ہے کہ ایک شخص کی درخواست پر میںنے دُعا کر کے ایک پتھر یا لکڑی کی ایک بھینس بنا دی ہے۔اس بھینس کی بڑی بڑی آنکھیں ہیں۱؎۔ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اس مقدمہ کے متعلق یہ خواب ہے کیونکہ پتھر یا لکڑی سے وہ منافق حاکم مراد ہے۔جس کاارادہ یہ ہے کہ بدی پہنچاوے اور جس کی آنکھیں بند ہیں اور پھر بھینس بن جانا اور بڑی بڑی آنکھیں ہو جانا۔