مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 636
مکتوب نمبر ۲۶۳ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آج کی ڈاک میں غلام محی الدین صاحب نے آپ کی طرف سے مبلغ پچاس روپیہ اور بھیجے ہیں۔جَزَاکُمُ اللّٰہُ خَیْرَا لْجَزَائِ۔ابھی وہ دس روپیہ نہیں آئے۔اس نازک وقت میں آپ کی طرف سے مجھے وہ مدد پہنچی ہے کہ میں بجز دعا کے اور کچھ بیان نہیں کرسکتا۔مجھے بباعث شدت رمد اور درد چشم اور پانی جاری ہونے کے طاقت نہ تھی کہ کاغذ کی طرف نظر بھی کر سکوں۔مگر بہر صورت اپنے پر جبر کر کے یہ چند سطریں لکھی ہیں۔کل کا اندیشہ ہے۔خاص کر کچہری کے دن کا کہ اللہ تعالیٰ آنکھوں کا درد اور بند رہنے سے بچاوے۔نہایت خوف ہے۔والسلام ۲۵؍ جنوری ۱۸۹۹ء خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ اس سے پہلے آج ہی ایک خط صبح روانہ کر چکا ہوں۔مکتوب نمبر ۲۶۴ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مکرمی اخویم منشی صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔کل کی ڈاک میں مبلغ ننانوے روپیہ مرسلہ آپ کے بذریعہ منی آرڈر پہنچے تھے۔جَزَاکُمُ اللّٰہُ خَیْرَا لْجَزَائِ۔آپ ہر ایک موقعہ پر اپنی مخلصانہ خدمات کا رضا مندی اللہ جلّشانہٗ کے لئے ثبوت دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو جزاء خیر بخشے۔آمین۔کل میں مقدمہ پر جائوں گا۔میری آنکھ اس وقت اس قدر دکھتی ہے کہ اللہ تعالیٰ رحم فرماوے۔