مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 622
مکتوب نمبر ۲۴۷ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ محبی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آپ کوبار بار تکلیف دیتے شرم آتی ہے۔تمام جماعت میں ایک آپ ہی ہیں جو اپنی محنت اور کوشش کی تنخواہ کا ایک ربع ہمارے سلسلہ کی امداد میں خرچ کرتے ہیں۔آپ کو اس صدق و ثبات کا خد اتعالیٰ بدلہ دیوے۔آمین۔اس وقت ایک شدید ضرورت کے لئے چند دوستوں کولکھا گیا ہے اور اسی ضرورت کے لئے آپ کو تکلیف دیتا ہوں کہ اگر آپ مبلغ بیس روپیہ بطور پیشگی اپنے چندہ میں سے بھیج دیں۔تو پھر جب تک کل حساب پیشگی چندہ طے نہ ہولے آئندہ کچھ نہ بھیجیں۔یہ روپیہ جہاں تک ممکن ہو، روانہ فرماویں۔جَزَاکُمُ اللّٰہُ خَیْراً۔والسلام یکم مئی ۱۸۹۶ء خاکسار غلام احمد آپ نے پہلے چالیس روپے پیشگی چندہ روانہ کیا تھا اور اب بیس روپیہ آپ سے طلب کیا گیا ہے۔پس جب تک یہ ساٹھ روپیہ چندہ کے ایام ختم نہیں ہوں گے۔تب تک آپ سے طلب نہ کیا جائے گا۔والسلام