مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 603
مکتوب نمبر ۲۱۶ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔محبت نامہ پہنچا۔امید کہ انشاء اللہ القدیر آپ کی معافی سواری کے لئے دعا کروں گا۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس تکلیف سے بھی نجات بخشے۔مگر میں دریافت کرنا چاہتا ہوںکہ جو مبلغ بیس روپے آپ نے بھیجے ہیں۔کیا یہ عرب صاحب کے چندہ میں ہیں۔یا میرے کاروبار کے لئے۔کیونکہ میں نے سنا تھا کہ آپ نے بیس روپیہ چندہ کے لئے تجویز کئے ہیں۔اس سے اطلاع بخشیں۔والسلام ۱۰؍مارچ ۱۸۹۴ء خاکسار غلام احمد ازقادیان مکتوب نمبر ۲۱۷ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلّمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔محبت نامہ پہنچا۔میں انشاء اللہ القدیر آپ کے لئے رمضان میں دعا کرتا رہوں گا۔آپ کی تو ہر مراد اللہ تعالیٰ پوری کردیتا ہے، آپ کیوں مضطرب ہوتے ہیں؟ رسالہ نورالحق بڑی شان کا رسالہ ہوگیا ہے اور پانچ ہزار روپیہ اس کے ساتھ اشتہار دیا گیا ہے اور ہزار لعنت بھی۔والسلام ۲۰؍ مارچ ۱۸۹۴ء خاکسار غلام احمد عفی عنہ