مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 571
میں پیداکرتا ہے وہ مومن کوقوت دیتی ہے۔ورنہ ہر ایک شخص فانی لذت کا طالب اور شیطانی خیال اس پر غالب ہے۔مومن پر شیطان غالب نہیں آتا۔کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے بیعت الموت کر چکا ہے۔شیطان پر وہی فتح پاتا ہے جو بیعت الموت کرے۔جیسے کہ آپ کے اشعار میں رقّت ہے۔خدا تعالیٰ آپ کے دل میں ایسی ہی سچی رقت پید اکرے۔ایک شخص جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں شاعر تھا اور ایمان نہیں لایا تھا۔ایک نفس پرست آدمی تھا۔لیکن شعر اس کے موحدانہ اور عارفانہ تھے۔ایک مرتبہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے شعر سنے ،نہایت پاکیزہ تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور فرمایا۔اٰمَنَ شِعْرُہٗ وَکَفَرَ نَفْسُہٗ۔یعنی شعر اس کا ایمان لایا اور نفس اس کاکافر ہوا۔خدا تعالیٰ آپ کے شعر اور آپ کے دل کو ایک ہی نور سے منور کرے۔مناسب ہے کہ یہ اشعار آپ جمع کرتے جائیں کیونکہ لطیف ہیں اور لائق جمع ہیں۔مجھے بباعث کثرتِ کار فراغت نہیں ورنہ میں جمع کرتا جاتا۔تین روز سے لودھیانہ سے قادیان آگیا ہوں۔مولوی نور دین صاحب کا کچھ پتہ نہیں۔ہمیشہ حالات خیریت آیات سے مطلع فرماتے رہیں۔دعا میں بہت مشغول رہیں کہ تمام امن و آرام خدا تعالیٰ کی یاد میں ہے۔٭ والسلام ۱۳؍ نومبر ۹ ۱۸۸ء خاکسار غلام احمد عفی عنہ