مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 543 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 543

مکتوب نمبر ۱۲۴ ملفوف بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم سلّمہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کے اس خط پہنچنے کے دو دن پہلے اخروٹ پہنچ گئے۔جزاکم اللّٰہ خیراً۔میرا نہایت پکا ارادہ تھا کہ ماہ رمضان میں آپ کی ہمسائیگی میں بسر کروں۔چنانچہ اپنے گھر کے لوگوں کو انبالہ چھائونی میں پہنچانے کی تجویز کردی تھی۔لیکن بحکمت و مصلحت الٰہی چند موانع کی وجہ سے وہ تجویز ملتوی رہی۔اگر اب بھی رمضان کے آنے تک وہ تجویز قائم ہو گئی تو عین مراد ہے کہ ماہ مبارک رمضان اس جگہ بسر کیا جائے۔گھر کے لوگوں کے ساتھ وہاں جانا نہایت مشکل معلوم ہوتا ہے۔سراج منیر کی طبع میں حکمت الٰہی سے توقف در توقف ہوتے گئے۔اب کوشش کر رہا ہوں کہ جلد انتظام طبع ہو جائے۔آئندہ ہر ایک بات اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور جو آپ نے ۱؎ کے معنے پوچھے ہیں۔سو واضح رہے کہ اَوْ کا لفظ جیساکلام عرب میں شک کے لئے آتا ہے۔ایسا ہی واو کے معنے میں بھی آتاہے اوریہ محاورہ شائع متعارف ہے۔سو آیت کے یہ معنے ہیں کہ وہ لوگ ایک لاکھ اور کچھ زیادہ تھے۔رہا یہ اعتراض کہ اس سے زیادہ کی تصریح کیوںنہیں کی۔اس کا جواب یہ ہے کہ ہر ایک بات کی تصریح اللہ جلّشانہٗ پر واجب نہیں۔چاہے کسی چیز کو مجمل بیان کرے اور چاہے مفصل۔پائوں کے مسح کی بابت یہ تحقیق ہے کہ آیت کی عبارت پر نظر ڈالنے سے نحوی قاعدہ کی رو سے دونوں طرح کے معنی نکلتے ہیں۔یعنی غسل کرنا اور مسح کرنا اور پھر ہم نے جب متواتر آثار نبویہ کی رو سے دیکھا تو ثابت ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پائوں کو دھوتے تھے۔اس لئے وہ پہلے معنے غسل کرنا معتبر سمجھے گئے۔مطلع اور مغرب الشمس کا ذکر ایک استعارہ اور مجاز کے طور پر ہے نہ کہ حقیقت کے طور پر۔ایسے استعارات جابجا کلام الٰہی میں بھرے ہوئے ہیں اور اشارہ بھی ہمیشہ مجاز اور استعارہ کا استعمال کرتا ہے۔مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ میں نے چاولوں کی ایک رکابی کھائی۔تو کیا اس نے رکابی کو توڑ کر کھا لیا۔پس ایسا اعتراض کوئی دانا نہیں کرسکتا اور اگر کوئی مخالف کرے تو