مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 542
کی ضرورت جسے اپنے لئے ایک ڈولی چاہئے اور چھ سات خادم اور خادمہ کے ساتھ ساتھ پہنچ جانے کے لئے بھی کچھ بندوبست چاہیے۔سو اس سفر کے آمدو رفت میں صرف کرایہ کا خرچ شاید کم سے کم سَوروپیہ ہو گا اور اس موقعہ ضرورت روپیہ میں اس قدر خرچ کر دینا قابل تامل ہے۔البتہ کوشش اور خیال میں ہوں کہ اگر موانع رفع ہو جائیںتو بلاتوقف آپ کے پاس پہنچ جائوں اور میںنے ان موانع کے رفع کرنے کے لئے حال میں بہت کوشش کی۔مگر ابھی تک کچھ کارگر نہیں ہوئی۔والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان نوٹ: اس خط پر تاریخ درج نہیں۔(عرفانی) مکتوب نمبر ۱۲۳ پوسٹ کارڈ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ مکرمی۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آج کی ڈاک میں عنایت نامہ پہنچا۔مفصل خط علیحدہ لکھا گیا ہے۔میں آپ کے لئے انشاء اللہ بہت دعا کرتا رہوں گا اور یقین رکھتا ہوںکہ اثر ہو۔اگر براہین احمدیہ کا کوئی شائق خریدار ہے تو آپ کو اختیار ہے کہ قیمت لے کر دے دیں مگر ارسال قیمت کا محصول ان کے ذمہ رہے۔اخروٹ اب تک نہیں پہنچے۔شاید دوچار دن تک پہنچ جائیں اور اگر کوئی سبیل پہنچانے کا ہوا ہو تو کسی قدر چاء بیشک بھیج دیں کہ مہمانوں کی خدمت میں کام آجائے گا۔بشیر احمد اچھا ہے۔والسلام ۲؍ مارچ ۱۸۸۸ء خاکسار غلام احمد ازقادیان