مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 48 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 48

عجب ہے کہ اب بھی میں ایسا ہی کروں۔آپ کو میںیگانہ دوست سمجھتا ہوں اور آپ کے لئے میرے دل و جان سے دعائیں نکلتی ہیں۔والسلام ۳۱؍ اکتوبر ۱۸۸۷ء خاکسار غلام احمد از قادیان خ خ خ مکتوب نمبر ۳۱ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلّمہ تعالیٰ۔بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آج نصف قطعات نوٹدو سَو چالیس روپے مرسلہ آں مخدوم پہنچ گئے۔امید کہ باقی قطعات بھی بذریعہ رجسٹری ارسال فرماویں میں نے السلام علیکم آں مخدوم بشیر احمد کو پہنچا دیا۔پہلے تو مجھے یہی خیال ہو رہا تھا کَیْفَ نُکَلِّمُ مَنْ کَانَ فِی الْمَھْدِصَبِیًّا لیکن تعمیل ارشاد آں مخدوم کی گئی۔اُس وقت طبیعت اس کی اچھی تھی۔بار بار تبسم کر رہا تھا۔چنانچہ السلام علیکم کے بعد بھی یہی اتفاق ہوا کہ دو تین مرتبہ اس نے تبسم کیا اور انگشت شہادت منہ پر رکھ لی۔اگر کشمیر میں یعنی سری نگر میں یہ خط مل جائے تو بیشک ایک مہر کھدوا کر لے آویں۔چاندی کی ایک سُبک جیسی انگشتری ہو جس پر یہ نام لکھا ہو کہ بشیرؔ۔امید کہ اب ملاقات میسر آئے گی لیکن قبل از ملاقات ایک ہفتہ مجھ کو اطلاع بخشیں کہ بابومحمد صاحب کی طرف سے بہت تاکید ہے کہ اگر آپ آویں تو مجھ کو بھی اطلاع دی جاوے۔امید کہ آں مخدوم نے کتاب لیکھرام کی طرف توجہ فرمائی ہوگی۔اس کی بیخ کنی نہایت ضروری ہے لیکن حتی الوسع یہ مدنظر رہے کہ عام خیال کے آدمی اس سے فائدہ اُٹھا سکیں اور واضح اور سریع الفہم خیالوں میں بیان ہو۔